کوئی بگولہ رقصاں میرے اندر ہے
کوئی بگولہ رقصاں میرے اندر ہے
دل صحرا میں جشن کے جیسا منظر ہے
میں نے کیسے کیسے موتی ڈھونڈے ہیں
لیکن تیرے آگے سب کچھ پتھر ہے
بالکنی پر آؤ میری پلکوں کی
دیکھو کتنا گہرا نیلا سمندر ہے
خاموشی سے مار نہ دے اک دن مجھ کو
شور سا اک جو میری ذات کے اندر ہے
چاہے جو بھی کھڑکی میں کھولوں اطہرؔ
سب کے باہر ایک ہی جیسا منظر ہے