لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیں
لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیں سنانے پہ بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں غضب ہے حسینوں سے دل کا لگانا یہ آفت کے پتلے بنائے ہوئے ہیں مرے خط کو پھاڑا رقیبوں کے آگے کسی کی وہ پٹی پڑھائے ہوئے ہیں الجھنے سے بالوں کے بگڑو نہ صاحب تمہارے ہی یہ سر چڑھائے ہوئے ہیں کلیجہ ہتھیلی پہ رکھ لوں تو جاؤں وہ ...