Mirza Asman Jah Anjum

مرزا آسمان جاہ انجم

اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے بیٹے اور ولی عہد

Son and crown prince of the last nawab of Awadh Wajid Ali Shah

مرزا آسمان جاہ انجم کی غزل

    لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیں

    لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیں سنانے پہ بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں غضب ہے حسینوں سے دل کا لگانا یہ آفت کے پتلے بنائے ہوئے ہیں مرے خط کو پھاڑا رقیبوں کے آگے کسی کی وہ پٹی پڑھائے ہوئے ہیں الجھنے سے بالوں کے بگڑو نہ صاحب تمہارے ہی یہ سر چڑھائے ہوئے ہیں کلیجہ ہتھیلی پہ رکھ لوں تو جاؤں وہ ...

    مزید پڑھیے

    الٰہی کوئی ہوا کا جھونکا دکھا دے چہرہ اڑا کے آنچل

    الٰہی کوئی ہوا کا جھونکا دکھا دے چہرہ اڑا کے آنچل کہ جھانکتا بھی ہے وہ ستمگر تو کھڑکھڑی میں لگا کے آنچل ضرور ڈھائے گا کوئی آفت ضرور فتنہ بپا کرے گا یہ تیرا اٹکھیلیوں سے چلنا جھکا کے گردن اٹھا کے آنچل جو تم کو منظور ہے پھر آنا تمہیں کہو پھر یہ کیسا جانا جتا کے غصہ سنا کے باتیں ...

    مزید پڑھیے

    یاں کفر سے غرض ہے نہ اسلام سے غرض

    یاں کفر سے غرض ہے نہ اسلام سے غرض بس ہے اگر غرض تو ترے نام سے غرض عیش و نشاط زیست ہے سب آپ سے حصول یاں شیشے سے غرض ہے نہ ہے جام سے غرض تم پاس ہو اگر تو برابر ہے رات دن کچھ صبح سے غرض نہ ہمیں شام سے غرض دل پھیر دیجئے نہ بگڑیے حضور آپ یاں بوسے سے غرض ہے نہ دشنام سے غرض پڑ رہنے بھر کو ...

    مزید پڑھیے

    پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میں

    پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میں سب گندھے ہیں آنسوؤں کے تار میں جس نے چاہا تجھ کو سر گرداں رہا دشت میں کوئی کوئی کہسار میں دل کے ٹکڑے او ستم گر باندھ لے کوئی خنجر میں کوئی تلوار میں ہر جگہ ہیں چاہنے والے ترے کوئی صحرا میں کوئی گل زار میں ہے جگہ سر پھوڑ لینے کو بہت کیا دھرا ہے آپ کی ...

    مزید پڑھیے

    انجمؔ اگر نہیں در دل دار تک پہنچ

    انجمؔ اگر نہیں در دل دار تک پہنچ ہو جائے کاش روزن دیوار تک پہنچ جاتا ہے کوئی کعبے کو اور کوئی سوئے دیر مجھ رند کی ہے خانۂ خمار تک پہنچ نالے کی نارسائی نے عاجز کیا ہمیں ہو جاتی ورنہ آپ کی سرکار تک پہنچ یہ کیا ہے بیٹھا باتیں بناتا ہے دور سے عیسیٰ اگر بنا ہے تو بیمار تک پہنچ لے ...

    مزید پڑھیے

    نہ تھا دل ہمارا کبھی غم سے واقف

    نہ تھا دل ہمارا کبھی غم سے واقف مگر اب ہوا آپ کے دم سے واقف یہ بتلاؤ ہم کو بھی پہچانتے ہو ہمیں کیا جو ہو سارے عالم سے واقف عبث آتی ہے روز گھر گھر کے بدلی نہیں کیا مرے دیدۂ نم سے واقف انہیں حال دل کس طرح لکھ کے بھیجیں نہ ہم ان سے واقف نہ وہ ہم سے واقف دکھایا اثر آہ نے اپنی انجمؔ کہ ...

    مزید پڑھیے

    صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہے

    صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہے ہمارا دل ربا کیا جانے کیا ہے نہ سنبل ہے نہ کالا ہے نہ ناگن تری زلف رسا کیا جانے کیا ہے کسی پہلو نہیں آرام تجھ کو تجھے اے دل ہوا کیا جانے کیا ہے نہیں معلوم کعبہ ہے کہ قبلہ خم ابرو ترا کیا جانے کیا ہے مرا دل لو گے تم یا جان لو گے تمہارا عندیہ کیا جانے ...

    مزید پڑھیے

    انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتا

    انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتا ہر ایک پہ مرتے ہو پہ مرنا نہیں آتا عالم کے حسیں بھرتے ہیں آنکھوں میں تمہاری دم عشق کا بھرتے ہو پہ بھرنا نہیں آتا ہم جان ہی سے اپنی گزر جائیں تو بہتر ہٹ دھرمی سے ان کو جو گزرنا نہیں آتا لو نام خدا ہم سے بناتے ہیں وہ باتیں جن کو کہ ابھی بات بھی ...

    مزید پڑھیے

    گر انہیں ہے اپنی صورت پر گھمنڈ

    گر انہیں ہے اپنی صورت پر گھمنڈ ہم کو ہے اپنی محبت پر گھمنڈ میرے ان کے پھر بھلا کیوں کر بنے ختم ہے دونوں کی خصلت پر گھمنڈ کیا نہیں دیکھی بلندی آہ کی کیوں فلک کرتا ہے رفعت پر گھمنڈ کام قاروں کے نہ آیا مال و زر منعمو بے جا ہے دولت پر گھمنڈ بادشاہ ہفت کشور ہے تو کیا کر نہ دو دن کی ...

    مزید پڑھیے

    مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگی

    مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگی کسی دن لڑائی نہ ہوگی تو ہوگی انہیں شرم ہے اور یہاں شوق بے حد اگر ہاتھاپائی نہ ہوگی تو ہوگی نہیں اتنی جرأت کہ قدموں پہ گریے کہ ان سے صفائی نہ ہوگی تو ہوگی ذرا جذبۂ دل مدد کر خدارا جو ان تک رسائی نہ ہوگی تو ہوگی نہ کچھ حسن و خوبی میں فرق آیا ہوگا یہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5