وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیں
وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیں ابھی جوانی کا ہے جو عالم نہ دیکھتے ہیں نہ بھالتے ہیں چلا ہے پہلو سے یار اٹھ کر غم جدائی کو ٹالتے ہیں کبھی تو ہم دل کو تھامتے ہیں کبھی جگر کو سنبھالتے ہیں کبھی نہ جن کو لگایا تھا منہ گلے میں باہیں وہ ڈالتے ہیں جو مانگتا ہوں میں ...