ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپ
ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپ ہم نہ سنیں گے حضرت ناصح لاکھ ہمیں سمجھائیں آپ شرم و حیا کے پردے میں کرتے تھے ہم پہ جفائیں آپ آپ کو ہم پہچان گئے منہ آنچل سے نہ چھپائیں آپ زلف کا تیرے ان سے کوئی مضموں جو رقم ہو جاتا ہے فرط خوشی سے لے لیتا ہوں ہاتھوں کی اپنے بلائیں ...