Mirza Asman Jah Anjum

مرزا آسمان جاہ انجم

اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے بیٹے اور ولی عہد

Son and crown prince of the last nawab of Awadh Wajid Ali Shah

مرزا آسمان جاہ انجم کی غزل

    ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپ

    ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپ ہم نہ سنیں گے حضرت ناصح لاکھ ہمیں سمجھائیں آپ شرم و حیا کے پردے میں کرتے تھے ہم پہ جفائیں آپ آپ کو ہم پہچان گئے منہ آنچل سے نہ چھپائیں آپ زلف کا تیرے ان سے کوئی مضموں جو رقم ہو جاتا ہے فرط خوشی سے لے لیتا ہوں ہاتھوں کی اپنے بلائیں ...

    مزید پڑھیے

    جوش پر اپنی مستیاں آئیں

    جوش پر اپنی مستیاں آئیں یاد کس کی یہ شوخیاں آئیں باتوں باتوں میں لے لیا دل کو تمہیں کیوں کر یہ پھرتیاں آئیں کہیں ان کو نہ یاد آیا ہوں آج کیوں مجھ کو ہچکیاں آئیں دونوں عالم ہوئے تہ و بالا ان کو کیوں خوش خرامیاں آئیں رک رہا دم جو آ کے آنکھوں میں یاد کس بت کی انکھڑیاں آئیں بال ...

    مزید پڑھیے

    کبھی انجم اسے ہشیار تو کر

    کبھی انجمؔ اسے ہشیار تو کر کوئی نالہ پس دیوار تو کر دل بے تاب کو تسکین تو ہو نہ دے بوسہ مگر اقرار تو کر کہیں معشوق تو مشہور تو ہو ہمیں رسوا سر بازار تو کر تجھے معلوم تو ہو حال میرا ذرا آنے کا تو انکار تو کر انہیں انجمؔ کبھی تو دیکھ تو لے کسی دن حال دل اظہار تو کر

    مزید پڑھیے

    نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہے

    نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہے رہ گئی دل میں کدورت ہی تو ہے بھا گئیں دل کو ادائیں ان کی کھب گئی آنکھوں میں صورت ہی تو ہے میری میت پہ نہ آئے نہ سہی نہ ہوئی آپ کو فرصت ہی تو ہے نہیں کرتا میں جفا کا شکوہ آپ کیا کیجئے عادت ہی تو ہے نہیں آتا کسی پہلو آرام نہیں کٹتی شب فرقت ہی تو ہے نکلی ...

    مزید پڑھیے

    صاف ہم تم سے آج کتنے ہیں

    صاف ہم تم سے آج کتنے ہیں سب تمہیں بد مزاج کہتے ہیں تیرے بیمار غم کو ہے وہ مرض حکما لا علاج کہتے ہیں میری دھڑکن سے وہ بھی نہ بے چین ہاں اسے اختلاج کہتے ہیں کیا عناصر میں ہے تری قدرت بس اسے امتزاج کہتے ہیں ہے شہادت کی آرزو قاتل دل کی ہم احتیاج کہتے ہیں داغ سودا نے سرفراز کیا ہم ...

    مزید پڑھیے

    میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگ

    میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگ وہ نہیں سننے کا ضد بیکار دلواتے ہیں لوگ شعلہ خو میرا سنے مجھ دل جلے کا حال کیوں آگ میں آگ اور بھی ناحق لگا آتے ہیں لوگ میرے مرنے پر انہیں کیوں رشک سے پوچھو کوئی کیوں سر بالیں مرے بیکار چلاتے ہیں لوگ کوئی کہتا ہے تجھے جلاد کوئی سنگ ...

    مزید پڑھیے

    چل بسے جو کہ تھے جانے والے

    چل بسے جو کہ تھے جانے والے اب نہیں پھر کے وہ آنے والے مجھ کو دکھلا دے مرا اختر بخت چاند سورج کے بنانے والے لوگ کہتے ہیں تمہیں راحت جان تم تو ہو دل کے دکھانے والے ہم سے اور بار مصیبت اٹھے ہم تو ہیں ناز اٹھانے والے تیری رحمت ہے غضب پر غالب روز محشر کے ڈرانے والے کبھی بھولے سے ...

    مزید پڑھیے

    عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والے

    عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والے ایک موسیٰ ہی نہ تھے طور کے جانے والے طور کو تم نے جلایا تو بڑی بات نہ کی آگ پانی میں لگاتے ہیں لگانے والے میرے مرقد کو بھی آ کر کبھی ٹھکرا جانا ارے او فتنۂ محشر کے جگانے والے ایک عالم ترے عاشق نے کیا خال سیاہ دو ہی نالے کیے تھے طور جلانے ...

    مزید پڑھیے

    ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھا

    ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھا تو ہو یہ ثابت کہ نکلا ابر سیہ سے ماہ تمام آدھا ہوا تو ہے تیرے ہجر میں دل ہمارا جل کر کباب ساقی کسر اگر ہے تو اتنی ہی ہے کہ پختہ آدھا ہے خام آدھا یہاں تو دل کو مرے جلایا وہاں جلائیں گے جسم میرا یہ حشر پر کیوں اٹھا رکھا ہے حضور نے ...

    مزید پڑھیے

    یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھی

    یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھی لیکن ساری خدائی بھر تیری صورت یکتا دیکھی کھیل گئے کیوں جاں پہ انجمؔ تم نے ابھی کیا دنیا دیکھی مرنے لگے خوبان جہاں پر تیری میری دیکھا دیکھی درد جگر کم تھا کہ نہیں تھا یہ تو بتا دم تھا کہ نہیں تھا کہہ تو مریض میں کچھ بھی دیکھا نبض ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5