Mirza Asman Jah Anjum

مرزا آسمان جاہ انجم

اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے بیٹے اور ولی عہد

Son and crown prince of the last nawab of Awadh Wajid Ali Shah

مرزا آسمان جاہ انجم کی غزل

    آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں

    آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں خوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیں میرے آتے ہی ہو گئے برہم کچھ کسی کے سکھائے بیٹھے ہیں تیغ کھینچی ہے قتل پر میرے ہاتھ مجھ سے اٹھائے بیٹھے ہیں میں شکایت جفا کی کرتا ہوں چپکے وہ سر جھکائے بیٹھے ہیں دم چرائے ہوئے پڑے ہیں ہم وہ جو بالیں پہ آئے بیٹھے ہیں امتحاں کو ...

    مزید پڑھیے

    اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتے

    اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتے دم مرا سینے میں رکنے لگا آتے جاتے خاک میں مجھ کو جو تم نے نہ ملایا نہ سہی لاش ہی میری ٹھکانے سے لگاتے جاتے تیرے دیوانوں کا دیکھے تو کوئی جوش و خروش سوئے محشر بھی ہیں اک شور مچاتے جاتے ہم تو سمجھے تھے کہ نالوں سے تسلی ہوگی یہ تو ہیں درد میں درد ...

    مزید پڑھیے

    سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میں

    سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میں نگاہ چار ہو کیوں کر کہ شرمسار ہوں میں روانہ رکھ کہ جہاں میں ذلیل و خوار ہوں میں جو ہوں سو ہوں پہ ترے در کا خاکسار ہوں میں پڑا ہوا ہوں بتوں کی گلی میں دل تھامے صبا سنبھل کے ذرا چل نحیف و زار ہوں میں کسی سے مطلب دل میرا حل نہیں ہوتا سوال مسئلۂ ...

    مزید پڑھیے

    باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہی

    باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہی چاہنے والا کوئی ہم سا دکھاؤ تو سہی کیسی ہوتی ہے محبت نہیں معلوم تمہیں ایک دو دن کہیں دل تم بھی لگاؤ تو سہی بے وفائی کی ہے تہمت چلو مانا ہم نے ہاں بھلا ہم سے ذرا آنکھ ملاؤ تو سہی جان دے دوں گا مگر تم کو نہ جانے دوں گا اٹھ کے پہلو سے بھلا تم مرے جاؤ تو ...

    مزید پڑھیے

    سارے عالم میں نور ہے تیرا

    سارے عالم میں نور ہے تیرا ہر جگہ پر ظہور ہے تیرا شرق سے غرب قاف سے تا قاف تذکرہ دور دور ہے تیرا دل عاشق کو کیوں جلاتا ہے یہ بھی کیا کوہ طور ہے تیرا میں کہاں اور تیرا نام کہاں سب کرم کا وفور ہے تیرا شب فرقت کو کیوں دراز کیا کیا یہ روز نشور ہے تیرا اس ستم گر کا کیا کریں شکوہ او رے ...

    مزید پڑھیے

    کبھی لکھتا ہوں میں ان کو اگر خط

    کبھی لکھتا ہوں میں ان کو اگر خط چلا جاتا ہے قاصد بھول کر خط نہیں آزاد کر سکتے ہمیں وہ لکیریں اپنے ماتھے کی ہیں سر خط جو تم بے اعتنائی سے نہ لکھتے نہ دیتا ہم کو قاصد پھینک کر خط مری قسمت سے بھولا نام قاصد نہ لکھتے تم تو ورنہ عمر بھر خط خوشی سے اٹھ کے انجمؔ پاؤں چوموں کہ لایا یار ...

    مزید پڑھیے

    نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھی

    نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھی سمجھتے ہیں قضا کا تیر ہم اس کو بھی اس کو بھی پڑے تھے دل کے پیچھے اس کو تو غارت کیا تم نے رہا اب دین و ایماں لو صنم اس کو بھی اس کو بھی اگر لے مول اک بوسے پہ میرا دین و ایمان تو میں دے دوں گا ترے سر کی قسم اس کو بھی اس کو بھی حقیقت میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5