آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں
آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں خوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیں میرے آتے ہی ہو گئے برہم کچھ کسی کے سکھائے بیٹھے ہیں تیغ کھینچی ہے قتل پر میرے ہاتھ مجھ سے اٹھائے بیٹھے ہیں میں شکایت جفا کی کرتا ہوں چپکے وہ سر جھکائے بیٹھے ہیں دم چرائے ہوئے پڑے ہیں ہم وہ جو بالیں پہ آئے بیٹھے ہیں امتحاں کو ...