Mirza Asman Jah Anjum

مرزا آسمان جاہ انجم

اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے بیٹے اور ولی عہد

Son and crown prince of the last nawab of Awadh Wajid Ali Shah

مرزا آسمان جاہ انجم کی غزل

    خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیں

    خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیں نہ کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں کچھ کسی سے جیسے لڑے ہوئے ہیں ہزارہا منتیں کریں گے لپٹ کے قدموں پہ سر دھریں گے نہ جانے دیں گے نہ جانے دیں گے عبث وہ بگڑے کھڑے ہوئے ہیں سوال کرتے ہیں مجھ سے کیا کیا پئے خدا میرے راہ بر آ پڑا میں تکتا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہے

    ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہے تو پھر پتھر کو تو کیوں مانتا ہے نہ پوچھا اس نے مجھ کو کون ہے تو ہوا ثابت کہ وہ پہچانتا ہے نہ مجھ سے پھیر منہ کافر خدارا ارے قرآن کیوں گردانتا ہے کہوں کس سے کہ کیا ہے یار میرا اسے کچھ میرا جی ہی جانتا ہے بہت چاہا نہ بولوں یار تجھ سے مگر ظالم یہ دل کب ...

    مزید پڑھیے

    یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہے

    یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہے واہ جی وا عاشق سے کوئی ایسی غفلت کرتا ہے نئی جوانی نئے نویلے نادان الڑھ اور البیلے سچ پوچھو تو تم کو صاحب دل دیتے جی ڈرتا ہے پوچھتے کیا ہو حال ہمارا جینے کا ہے کون سہارا رو لیتے ہیں جی بھر بھر کر جب غم سے جی بھرتا ہے ان سے نہیں کچھ ...

    مزید پڑھیے

    غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہی

    غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہی پہ یہ کیا غضب ہے پئے خدا تجھے آج تک ہے ملال ہی ہے انوکھا اس کا جمال ہی نہ وہ بدر ہے نہ ہلال ہی نہیں بنتی کوئی مثال ہی بلغ العلی بکمالہ مری آہ نے یہ کیا اثر کہ وہ آن کر ہوئے جلوہ گر شب تار ہجر ہوئی سحر کشف الدجی بجمالہ ہے اسی کی شان میں ٰلا ...

    مزید پڑھیے

    دل لے کے ہمارا پھرتا ہے یہ کون وطیرہ تیرا ہے

    دل لے کے ہمارا پھرتا ہے یہ کون وطیرہ تیرا ہے کرتا ہے چھچھوری باتیں کیوں ہر بات میں تیرا میرا ہے تم چہرہ اپنا دکھلا دو کچھ راہ خلاصی بتلا دو اک زلف کا سودا سر میں ہے اک کالی بلا نے گھیرا ہے اس آنے کی کیا مجھ کو خوشی پابندی اس میں کاہے کی بھولے سے ادھر بھی آ نکلے اک جوگی کا سا پھیرا ...

    مزید پڑھیے

    پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیص

    پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیص کہ ہے تجھی پہ ہر اک داد خواہ کی تخصیص جو آپ سمجھے ہیں مجرم ہمیں تو کچھ نہیں ڈر کہ کی ہے آپ ہی نے دو گواہ کی تخصیص فراق یار میں بے روئے بن نہیں پڑتی اثر کے واسطے کر دی ہے آہ کی تخصیص نہ دل چراتے ہمارا نہ تم خجل ہوتے پئے حجاب ہے نیچی نگاہ کی ...

    مزید پڑھیے

    بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہے

    بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہے تری نگاہ کی ناوک فگن پناہ بھی ہے سزا کے واسطے اقرار بھی گناہ بھی ہے اور ایک تم سا کوئی دوسرا گواہ بھی ہے خدا کا گھر بھی ہے دل میں بتوں کی چاہ بھی ہے صنم کدہ بھی ہے دل اپنا خانقاہ بھی ہے عجیب حال ہے دنیا پرست لوگوں کا معاد کا بھی خیال اور فکر ...

    مزید پڑھیے

    کیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سبب

    کیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سبب کیوں سرنگوں ہے ابروئے خمدار کیا سبب قسمت پلٹ گئی کہ نصیبہ الٹ گیا کیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سبب کیا آ گیا قریب زمانہ وصال کا کیوں بے قرار ہے یہ دل زار کیا سبب طاقت کہاں سے آ گئی اس ناتواں میں آج دم توڑتا جو ہے دل بیمار کیا سبب کس سے لڑی ...

    مزید پڑھیے

    رنگ بدلا ہے کئی دن سے مزاج یار کا

    رنگ بدلا ہے کئی دن سے مزاج یار کا جوڑ شاید چل گیا پھر آج کل اغیار کا کس قدر پایا سویدائے دل عاشق نے اوج رفتہ رفتہ تل بنا آخر ترے رخسار کا اب تو آ کر دیکھ جانا چاہئے تجھ کو ضرور حال ہے نوع دگر عیسیٰ ترے بیمار کا بے خودی میں زخم دل پر جبکہ پڑتی ہے نظر ہوتا ہے دھوکا تمہارے روزن ...

    مزید پڑھیے

    چلے آؤ اگر دم بھر کو تم تو یہ جاتا رہے فی الفور مرض

    چلے آؤ اگر دم بھر کو تم تو یہ جاتا رہے فی الفور مرض کہ نہیں ہے بجز بیماریٔ غم مری جان مجھے کوئی اور مرض نہیں کہتا میں تم سے کہ چارہ کرو مگر آ کے کبھی کبھی دیکھ تو لو کہ سمجھتا نہیں ہے طبیب کوئی ہے تمہارے ہی قابل غور مرض مرے عیسیٰ دم مرے بے پروا نہ علاج سے میرے ہاتھ اٹھا نہیں بچنے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5