خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیں
خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیں نہ کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں کچھ کسی سے جیسے لڑے ہوئے ہیں ہزارہا منتیں کریں گے لپٹ کے قدموں پہ سر دھریں گے نہ جانے دیں گے نہ جانے دیں گے عبث وہ بگڑے کھڑے ہوئے ہیں سوال کرتے ہیں مجھ سے کیا کیا پئے خدا میرے راہ بر آ پڑا میں تکتا ہوں ...