منہاج نقیب کی غزل

    زندگی کامیاب دو بابا

    زندگی کامیاب دو بابا یا ٹکا سا جواب دو بابا ہو سکے تو کبھی مسرت کا میری آنکھوں کو خواب دو بابا خار سے ہو نہ واسطہ جس کا کوئی ایسا گلاب دو بابا ہو کے بے پردہ کھاؤ گے نشتر اپنے رخ کو نقاب دو بابا کس قدر یہ انارکی ہر سو ہو سکے تو حساب دو بابا میں حقیقت کو پا کے ہوں غمگیں خوب صورت ...

    مزید پڑھیے

    زندگی میری مجھے دے گی سزائیں کب تک

    زندگی میری مجھے دے گی سزائیں کب تک رائیگاں جائیں گی راتوں کی دعائیں کب تک چاندنی پیار کی جس گھر میں اتر جائے گی اس کو ٹھکرائیں گی نفرت کی گھٹائیں کب تک دل کو جو زخم دئیے تو نے وہ ناسور بنے تو ہی کہہ دے کہ زمانے سے چھپائیں کب تک آج کے دور کا انسان پریشاں ہے بہت اس کو بھٹکائیں گی ...

    مزید پڑھیے

    جفا وہ کرتے رہے ایسے بے وفا کی طرح

    جفا وہ کرتے رہے ایسے بے وفا کی طرح گلہ بھی کر نہ سکا میں کبھی گلہ کی طرح وہ سنگ دل ہے ستم گر ہے بے مروت ہے جو غم کا حال سنے صرف واقعہ کی طرح کسی کے بچنے کا امکاں نظر نہیں آتا فضا میں زہر ہے پھیلا ہوا ہوا کی طرح میں شاید اوب چکا ہوں حیات سے اپنی مجھے حیات بھی لگتی ہے اب قضا کی ...

    مزید پڑھیے