جفا وہ کرتے رہے ایسے بے وفا کی طرح
جفا وہ کرتے رہے ایسے بے وفا کی طرح
گلہ بھی کر نہ سکا میں کبھی گلہ کی طرح
وہ سنگ دل ہے ستم گر ہے بے مروت ہے
جو غم کا حال سنے صرف واقعہ کی طرح
کسی کے بچنے کا امکاں نظر نہیں آتا
فضا میں زہر ہے پھیلا ہوا ہوا کی طرح
میں شاید اوب چکا ہوں حیات سے اپنی
مجھے حیات بھی لگتی ہے اب قضا کی طرح
کسی کو ڈس لیں تو پانی نہ پی سکے یارو
ہیں ایسے لوگ یہاں ناگ دیوتا کی طرح
وہ اپنا جرم چھپانے کو شمر بن بیٹھے
ہمارا شہر بھی لگتا ہے کربلا کی طرح
تمہارا حسن و شباب ان دنوں معاذ اللہ
نظر جماؤں تو چھانے لگے نشہ کی طرح
چمن کو پھول تو پھولوں کو چاہئے خوشبو
ہر ایک شے ہے یہاں دوستو گدا کی طرح
نقیبؔ اب کوئی پہچان ہی نہیں اپنی
یہاں تو چھا گئی تہذیب نو بلا کی طرح