زندگی کامیاب دو بابا
زندگی کامیاب دو بابا
یا ٹکا سا جواب دو بابا
ہو سکے تو کبھی مسرت کا
میری آنکھوں کو خواب دو بابا
خار سے ہو نہ واسطہ جس کا
کوئی ایسا گلاب دو بابا
ہو کے بے پردہ کھاؤ گے نشتر
اپنے رخ کو نقاب دو بابا
کس قدر یہ انارکی ہر سو
ہو سکے تو حساب دو بابا
میں حقیقت کو پا کے ہوں غمگیں
خوب صورت سراب دو بابا
ہوش سے بھی جو کر دے بیگانہ
کوئی ایسی شراب دو بابا
میں سمندر میں رہ کے تشنہ ہوں
مجھ کو خوشیوں کا آب دو بابا
اس صدی کو بھی اب خدا کے لئے
اک سنہرا سا باب دو بابا
بخت کی تیرگی سہوں ہنس کر
کم سے کم اتنی تاب دو بابا
زور جو توڑ دے تعصب کا
کوئی ایسا نصاب دو بابا