زندگی میری مجھے دے گی سزائیں کب تک

زندگی میری مجھے دے گی سزائیں کب تک
رائیگاں جائیں گی راتوں کی دعائیں کب تک


چاندنی پیار کی جس گھر میں اتر جائے گی
اس کو ٹھکرائیں گی نفرت کی گھٹائیں کب تک


دل کو جو زخم دئیے تو نے وہ ناسور بنے
تو ہی کہہ دے کہ زمانے سے چھپائیں کب تک


آج کے دور کا انسان پریشاں ہے بہت
اس کو بھٹکائیں گی گم کردہ دشائیں کب تک


آج انصاف تجوری میں مقید ہے یہاں
سب کے دروازوں پہ ہم دیں گے صدائیں کب تک