Mela Ram Wafa

میلہ رام وفاؔ

پنجاب کے راج کوی ،نامور صحافی ،شاعر اور ناول نویس

Noted journalist, novelist and poet

میلہ رام وفاؔ کی غزل

    کسی درد مند کی ہوں صدا کسی دل جلے کی پکار ہوں

    کسی درد مند کی ہوں صدا کسی دل جلے کی پکار ہوں جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گئی وہ بہار ہوں کوئی مجھ پہ پھول چڑھائے کیوں کوئی مجھ پہ شمع جلائے کیوں کوئی میرے پاس بھی آئے کیوں کہ میں حسرتوں کا مزار ہوں بھلا مجھ پہ ڈھائیں تو ڈھائیں کیا ستم اب زمانہ کی آندھیاں میں بجھا ہوا سا چراغ ...

    مزید پڑھیے

    دیکھتی آنکھوں نے دیکھا ہے شبستانوں میں

    دیکھتی آنکھوں نے دیکھا ہے شبستانوں میں جذبہ مرنے کا ابھی زندہ ہے پروانوں میں کتنا پر ہول ہے ماحول شب فرقت کا خون بھی خشک ہوا جاتا ہے شریانوں میں کام آیا نہ گلا پھاڑنا اے شیخ ترا نظر آتی ہیں وہی رونقیں مے خانوں میں ستم تازہ پہ یوں شکر ستم کرتا ہوں جیسے اک اور اضافہ ہوا احسانوں ...

    مزید پڑھیے

    زندگی خاک میں بھی تھی ترے دیوانے سے

    زندگی خاک میں بھی تھی ترے دیوانے سے اب نہ اٹھے گا بگولا کوئی ویرانے سے اس قدر ہو گئی کثرت ترے دیوانوں کی قیس گھبرا کے چلا شہر کو ویرانے سے جل مرا آگ محبت کی اسے کہتے ہیں جلنا دیکھا نہ گیا شمع کا پروانے سے کس کی بیگانہ وشی سے یہ تحیر آیا کہ اب اپنے بھی نظر آتے ہیں بیگانے سے شیخ ...

    مزید پڑھیے

    برسوں سے ہوں میں زمزمہ پرداز محبت

    برسوں سے ہوں میں زمزمہ پرداز محبت آئی نہ جواباً کبھی آواز محبت اک درد محبت ہے مری ہر رگ و پے میں ہر سانس ہے اب میرا اک آواز محبت ہر چند کہ ہر بزم میں ٹھکرائی گئی ہے آواز محبت ہے پھر آوازۂ محبت معمور ہیں آواز محبت سے فضائیں مستور ہے گو صاحب آواز محبت آ جائے ذرا سینۂ آفاق میں ...

    مزید پڑھیے

    دیار حسن میں پابندیٔ رسم وفا کم ہے

    دیار حسن میں پابندیٔ رسم وفا کم ہے بہت کم ہے بہت کم ہے بحد انتہا کم ہے جفائے بے سبب کم ہے کہ جور ناروا کم ہے تری بے داد اے ظالم نہ ہونے پر بھی کیا کم ہے کمال دلبری میں کون سی تیری ادا کم ہے نہ شوخی کم حیا سے ہے نہ شوخی سے حیا کم ہے بہ کثرت سیر کی ہے ہر روش گلزار عالم کی یہاں رنگ ...

    مزید پڑھیے

    گو قیامت سے پیشتر نہ ہوئی

    گو قیامت سے پیشتر نہ ہوئی تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی آ گئی نیند سننے والوں کو داستاں غم کی مختصر نہ ہوئی خون کتنے ستم کشوں کا ہوا آنکھ اس سنگ دل کی تر نہ ہوئی اس نے سن کر بھی ان سنی کر دی موت بھی میری معتبر نہ ہوئی ساتھ تقدیر نے کبھی نہ دیا کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی چین کی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3