کسی درد مند کی ہوں صدا کسی دل جلے کی پکار ہوں
کسی درد مند کی ہوں صدا کسی دل جلے کی پکار ہوں جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گئی وہ بہار ہوں کوئی مجھ پہ پھول چڑھائے کیوں کوئی مجھ پہ شمع جلائے کیوں کوئی میرے پاس بھی آئے کیوں کہ میں حسرتوں کا مزار ہوں بھلا مجھ پہ ڈھائیں تو ڈھائیں کیا ستم اب زمانہ کی آندھیاں میں بجھا ہوا سا چراغ ...