Mela Ram Wafa

میلہ رام وفاؔ

پنجاب کے راج کوی ،نامور صحافی ،شاعر اور ناول نویس

Noted journalist, novelist and poet

میلہ رام وفاؔ کی غزل

    دیا رشک آشفتہ حالوں نے مارا

    دیا رشک آشفتہ حالوں نے مارا ترے حسن پر مرنے والوں نے مارا کبھی دل کا ماتم کبھی آرزو کا مجھے نت نئے مرنے والوں نے مارا ہوا خون سینے میں دل حسرتوں سے تمنائیں بن کر خیالوں نے مارا ترا ہی خیال ان کو آٹھوں پہر ہے مجھے میرے ہی ہم خیالوں نے مارا وہی ہے اگر اے وفا نظم ہستی تو کیا معرکہ ...

    مزید پڑھیے

    کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کو

    کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کو روز و شب کام رہا آہ و بکا سے مجھ کو پاس خاطر سے نہ دشمن کے ستم کر مجھ پر کھیلنا آتا ہے اے دوست قضا سے مجھ کو ہائے عالم شب فرقت مری مایوسی کا دیتی ہے موت کی امید دلاسے مجھ کو تھا تری فتنہ خرامی سے عیاں دل کا مآل بوئے خوں آتی ہے نقش کف پا سے مجھ ...

    مزید پڑھیے

    دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے

    دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے راحت وصل کسی کو تو کسی کو غم ہجر صبر خالق نے دیا ہے مجھے سب کے بدلے اتنی سی بات پہ بگڑے ہی چلے جاتے ہو لے لو تم بوسۂ لب بوسۂ لب کے بدلے فرقت یار میں جینے کے اٹھائے الزام موت آئی نہ مجھے ہجر کی شب کے بدلے آج اغیار ...

    مزید پڑھیے

    ساعتوں کی نہیں بات لمحوں کی ہے جسم سے روح پرواز کر جائے گی

    ساعتوں کی نہیں بات لمحوں کی ہے جسم سے روح پرواز کر جائے گی تم ہماری خبر کو تو کیا آؤ گے اب تمہی کو ہماری خبر جائے گی جس قیامت سے واعظ ڈراتا ہے تو اس قیامت سے کم یہ قیامت نہیں بارہا دل پہ گزری ہے جو ہجر میں بارہا جان پر جو گزر جائے گی میرے چارہ گرو میرے تن پرورو، جاؤ تم کس لیے نیند ...

    مزید پڑھیے

    معنی ترازیاں ہیں رنگیں بیانیاں ہیں

    معنی ترازیاں ہیں رنگیں بیانیاں ہیں دنیا میں جتنے منہ ہیں اتنی کہانیاں ہیں معنی ترازیاں یا رنگیں بیانیاں ہیں یہ بھی کہانیاں ہیں وو بھی کہانیاں ہیں کیا مہربانیاں تھیں کیا مہربانیاں ہیں وہ بھی کہانیاں تھیں یہ بھی کہانیاں ہیں اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر اتنی سی ہے ...

    مزید پڑھیے

    بڑا بے داد گر وہ مہ جبیں ہے

    بڑا بے داد گر وہ مہ جبیں ہے مگر اتنا نہیں جتنا حسیں ہے تبسم پاشیاں اغیار پر ہیں ہمارے واسطے چین جبیں ہے جہاں میں امن ہو کیوں کر کہ ہر سو بپا جنگ بقائے بہتریں ہے نہیں کا لفظ ہے کچھ تلخ ورنہ تمہاری ہاں کا مطلب بھی نہیں ہے ترے مہماں وہ آئیں اے وفاؔ کیا ارے تیرا ٹھکانہ بھی کہیں ...

    مزید پڑھیے

    کون کہتا ہے کہ مر جانے سے کچھ حاصل نہیں

    کون کہتا ہے کہ مر جانے سے کچھ حاصل نہیں زندگی اس کی ہے مر جانا جسے مشکل نہیں ہاں یہ سارا کھیل پروانوں کی جاں بازی کا ہے شمع روشن پر مدار گریۂ محفل نہیں عام ہی کرنا پڑے گا ان کو فیض التفات غیر ہرگز التفات خاص کے قابل نہیں منتخب میں ہی ہوا مشق تغافل کے لیے وہ تغافل کیش میری یاد ...

    مزید پڑھیے

    قلق آ گیا اضطراب آ گیا

    قلق آ گیا اضطراب آ گیا یہ دل کیا گیا اک عذاب آ گیا لفافے میں پرزے مرے خط کے ہیں مرے خط کا آخر جواب آ گیا ادھر بڑھتے بڑھتے بڑھا دست شوق ادھر آتے آتے حجاب آ گیا کہا اس نے دیکھا جو در پر مجھے کہاں سے یہ خانہ خراب آ گیا جبیں پرشکن ہے نگہ شعلہ ریز یہ کون آج زیر عتاب آ گیا سکندر نصیبے ...

    مزید پڑھیے

    پوچھیں وہ کاش حال دل بے قرار کا

    پوچھیں وہ کاش حال دل بے قرار کا ہم بھی کہیں کہ شکر ہے پروردگار کا لازم اگر ہے شکر ہی پروردگار کا پھر کیا علاج گردش لیل و نہار کا صیاد بھی پہنچ گیا گلچی بھی باغ میں اے ہم صفیر آ گیا موسم بہار کا تدبیر کیا ہو صبر و شکیب و قرار کی وہ تند خو ہے بس کا نہ دل اختیار کا کیوں کر مٹے ندامت ...

    مزید پڑھیے

    کہنا ہی مرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

    کہنا ہی مرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا یہ بھی تمہیں دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا یہ بات کہ کہنا ہے مجھے تم سے بہت کچھ اس بات سے پیدا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا اپنی ہی کہے جاتا ہے اے ناصح نا فہم تو کچھ نہیں سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا رہتا ہے وہ بت شکوۂ اغیار پہ خاموش کہتا ہے تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3