Mela Ram Wafa

میلہ رام وفاؔ

پنجاب کے راج کوی ،نامور صحافی ،شاعر اور ناول نویس

Noted journalist, novelist and poet

میلہ رام وفاؔ کی غزل

    وہ کہتے ہیں یقیں لانا پڑے گا

    وہ کہتے ہیں یقیں لانا پڑے گا یہ دھوکہ جان کر کھانا پڑے گا زمانہ کو بدلنا ہم نے ٹھانا زمانہ کو بدل جانا پڑے گا سلامت ہے ہمارا جذب الفت تم آؤ گے تمہیں آنا پڑے گا یہی مرضی ہے اس آرام جاں کی ہمیں اب جان سے جانا پڑے گا دل ناداں سمجھ جائے گا لیکن دل ناداں کو سمجھانا پڑے گا عدو کے ناز ...

    مزید پڑھیے

    التفات عام ہے وجہ پریشانی مجھے

    التفات عام ہے وجہ پریشانی مجھے کس قدر مہنگی پڑی ہے ان کی ارزانی مجھے بحر ہستی ہے مری نظروں میں اک دشت سراب ریت کا ہوتا ہے دھوکہ دیکھ کر پانی مجھے تیرے جلووں کا تو ہر اک ذرہ ہے آئینہ دار مانع نظارہ ہے خود میری حیرانی مجھے سعیٔ بے حاصل تھی دل کی کوشش اخفائے راز کر گئی رسوا نگاہوں ...

    مزید پڑھیے

    موت علاج غم تو ہے موت کا آنا سہل نہیں

    موت علاج غم تو ہے موت کا آنا سہل نہیں جان سے جانا سہل سہی جان کا جانا سہل نہیں ہمدردی ہمدردی میں جان ہی لے کر ٹلتے ہیں ان ظالم ہمدردوں سے جان چھڑانا سہل نہیں برق بھی گرتی ہے اکثر خرمن بھی جلتے ہیں مگر اپنے ہاتھوں خرمن کو آگ لگانا سہل نہیں غم کے کھانے والوں کو کھا جاتا ہے غم ...

    مزید پڑھیے

    کیا کہیں وعدوں پہ یقیں ہم کیوں لاتے جاتے ہیں

    کیا کہیں وعدوں پہ یقیں ہم کیوں لاتے جاتے ہیں دھوکا کھانا پڑتا ہے دھوکا کھاتے جاتے ہیں طاقت ضبط غم دل سے رخصت ہوتی جاتی ہے ارماں نالے بن بن کر لب پر آتے جاتے ہیں راتیں عیش و عشرت کی دن دکھ درد مصیبت کے آتی آتی آتی ہیں جاتے جاتے جاتے ہیں آندھیوں اور بگولوں سے کم نہیں تیرے ...

    مزید پڑھیے

    بیگانہ وار ہم سے یگانہ بدل گیا

    بیگانہ وار ہم سے یگانہ بدل گیا کیسی چلی ہوا کہ زمانہ بدل گیا آنکھیں بھی دیکھتی ہیں زمانہ کے رنگ ڈھنگ دل بھی سمجھ رہا ہے زمانہ بدل گیا بدلا نہ تھا زمانہ اگر تم نہ بدلے تھے جب تم بدل گئے تو زمانہ بدل گیا ان کو دلائیں یاد جب اگلی عنایتیں وہ بھی یہ کہہ اٹھے کہ زمانہ بدل گیا بس ایک ...

    مزید پڑھیے

    محبت بھی ہوا کرتی ہے دل بھی دل سے ملتا ہے

    محبت بھی ہوا کرتی ہے دل بھی دل سے ملتا ہے مگر پھر آدمی کو آدمی مشکل سے ملتا ہے محبت جب مزہ دیتی ہے دل جب دل سے ملتا ہے مگر مشکل یہی ہے دل سے دل مشکل سے ملتا ہے سوائے یاس کیا اس سعیٔ بے حاصل سے ملتا ہے ترا دل و ستم گر کب کسی کے دل سے ملتا ہے عجب رقت فضا ہے آخری ملنے کا نظارہ گلے لگ لگ ...

    مزید پڑھیے

    کچھ نہ کچھ ہوگا مری مشکل کا حل فرقت کی رات

    کچھ نہ کچھ ہوگا مری مشکل کا حل فرقت کی رات تم نہ آؤ گے تو آئے گی اجل فرقت کی رات آ گیا کیا نظم ہستی میں خلل فرقت کی رات رک گیا کیوں دور گردوں کا عمل فرقت کی رات ہو رہی ہیں شام سے ساکن گھڑی کی سوئیاں پاؤں پھیلاتا ہے کیا ایک ایک پل فرقت کی رات سرد سرد آہوں سے یوں آنسو مرے جمتے گئے ہو ...

    مزید پڑھیے

    جوانی میں طبیعت لاابالی ہوتی جاتی ہے

    جوانی میں طبیعت لاابالی ہوتی جاتی ہے ترقی پر مری شوریدہ حالی ہوتی جاتی ہے شب غم چھایا جاتا ہے دھواں آہوں کے شعلوں سے ستارے ٹوٹتے ہیں رات کالی ہوتی جاتی ہے امیدیں آتی ہیں آ آ کے دل سے نکلی جاتی ہیں یہ وہ بستی ہے جو بس بس کے خالی ہوتی جاتی ہے کھلے جاتے ہیں گل مقتل میں کیا کیا عکس ...

    مزید پڑھیے

    صبر مشکل تھا محبت کا اثر ہوتے تک

    صبر مشکل تھا محبت کا اثر ہونے تک جان ٹھہری نہ دل دوست میں گھر ہونے تک شب فرقت کی بھی ہونے کو سحر تو ہوگی ہاں مگر ہم نہیں ہونے کے سحر ہونے تک سہنے ہیں جور و ستم جھیلنے ہیں رنج و الم یعنی کرنی ہے بسر عمر بسر ہونے تک تیرا پردہ بھی اٹھا دے گی مری رسوائی تیرا پردہ ہے مرے خاک بہ سر ہونے ...

    مزید پڑھیے

    جی پر بھی ہم نے جبر کیا اختیار تک

    جی پر بھی ہم نے جبر کیا اختیار تک جیتے رہے اخیر دم انتظار تک کس کو نصیب ہوتے ہیں پھر جلسہ ہائے مے جیتا ہے کون دیکھیے اگلی بہار تک اف رے ستم کہ بہر دعائے وصال غیر وہ پاؤں چل کے آئے ہیں میرے مزار تک تم بھی کرو گے جبر شب و روز اس قدر ہم بھی کریں گے صبر مگر اختیار تک شاکی نہیں میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3