بظاہر اس کا قد اونچا بہت ہے
بظاہر اس کا قد اونچا بہت ہے
مگر اندر سے وہ چھوٹا بہت ہے
جہنم کی ضرورت کیا ہے آخر
عذابوں کو تو یہ دنیا بہت ہے
بڑے اخلاص سے ملتا ہے مجھ سے
مجھے اس شخص سے خدشہ بہت ہے
ذرا سا چھاؤں تھوڑا سا اجالا
ہمارے واسطے اتنا بہت ہے
ہوس کو کم ہیں اسباب دو عالم
قناعت کے لیے تھوڑا بہت ہے
ترے اشعار جیسے بھی ہیں راہیؔ
مگر لہجہ ترا تیکھا بہت ہے