Meerza Jawan Bakht Jahandar

مرزا جواں بخت جہاں دار

  • 1749

مغلیہ سلطنت کے ولی عہد

Crown prince of the Mughal Emperor Shah Alam who migrated to Lucknow and then to Varanasi due to political turmoil at Delhi Court

مرزا جواں بخت جہاں دار کی غزل

    جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے

    جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے نہ حشر کو بھی اٹھیں گے نگاہ کے مارے مثال برگ خزاں صرصر فراق سے آہ پٹکتے پھرتے ہیں سر ہم تباہ کے مارے عزیزو دل نہ دو یوسف کی کر کے چاہ کبھی کہ جا کے چاہ میں گرتے ہیں چاہ کے مارے الٰہی حشر میں آواز صور سن کیوں کر اٹھوں گا آہ میں بار گناہ کے مارے حذر ...

    مزید پڑھیے

    تنہا نہ مہر میں ہے رخ یار کی طرح

    تنہا نہ مہر میں ہے رخ یار کی طرح مہ میں تمام اس کے ہے رخسار کی طرح حیران ایسے نئیں ہوئی آنکھوں کو اس کی دیکھ نرگس چمن میں رہتی ہے بیمار کی طرح میں سن کے جو قیاس کیا وہ دہان تنگ خنداں تو ہے پہ خندۂ سوفار کی طرح سینہ سپر ہوں بوالہوساں کب کہ یار کے پیوستہ ابرو لڑتے ہیں تلوار کی ...

    مزید پڑھیے

    نالہ جدھر میرا گزر کر گیا

    نالہ جدھر میرا گزر کر گیا تیر سا ہر دل میں اثر کر گیا دل نہ رہا آپ میں اور میں بہ خود میری طرف جب وہ نظر کر گیا کھول کے زلفوں کے تئیں چہرہ پر یار بہم شام و سحر کر گیا اہل ہوس رات گلی میں تری جانے سے اے شوخ حذر کر گیا اور جو مجھ سا تھا کوئی جاں فشاں در پہ ترے جی سے گزر کر ...

    مزید پڑھیے

    مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا

    مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا مفت بدنامی تجھے ہووے گی پچھتاوے گا جو ترا عاشق رفتار ہے جوں نقش قدم تیرے کوچے کے تئیں چھوڑ کہاں جاوے گا غیر کے کہنے پر اے یار نہ کہیو ہرگز یہ سمجھ رکھیو وہ شیطان ہے بہکاوے گا دہر میں تیرے فریبوں سے اے شوخ عیار کم کوئی ہوگا نہ دل جس کا دغا ...

    مزید پڑھیے

    معلوم ہی نہیں کہ مجھے کیا بلا ہوا

    معلوم ہی نہیں کہ مجھے کیا بلا ہوا کچھ دیکھتے ہی تجھ کو یہ دل مبتلا ہوا گرمیٔ بزم آج ہے کچھ حد ستی زیاد دیوار پیچھے کوئی نہ ہو دل جلا ہوا تسکیں ہوئی اسے جو گیا بے قرار واں کوچہ ترا کہاں ہوا دار الشفا ہوا بوسہ کے مانگنے کے سوا اور کچھ بتا تقصیر ہم نے کیا کی جو اتنا خفا ہوا لگتے ہی ...

    مزید پڑھیے

    سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھنا

    سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھنا کیجو نہ اس سے حال دل اظہار دیکھنا گستاخ بے طرح ہے تجھ آغوش سے یہ ہاتھ ہو جائے گا گلے کا ترے ہار دیکھنا تجھ در پہ مثل نقش قدم ایک عمر سے پیارے فتادہ ہے یہ گنہ گار دیکھنا گھر تیرے گئے پہ تجھ کوں نہ پایا بلا رقیب مجھ کو ہوا یہ گل کے عوض خار ...

    مزید پڑھیے

    جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیا

    جو کچھ کہ تو نے سر پہ مرے دل ربا کیا دل ہی وہ جانتا ہے کہوں کیا میں کیا کیا مت پوچھ آہ عشق کے خوباں کے کیا کیا رسوا کیا خراب کیا مبتلا کیا یارو کہے رکھے ہوں میں دعویٰ نہ کیجیو قاتل کو اپنے میں نے بحل خوں بہا کیا ملزم کیا ہے آہ کسی نے مجھے بہ عکس آئینہ رو کا اپنے میں جس سے گلہ ...

    مزید پڑھیے

    دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا

    دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا سب دیکھے دل آزار ہی دل دار نہ پایا کب غیر کو ہم رہ ترے اے یار نہ دیکھا تجھ گل کو کبھی ہم نے تو بے خار نہ پایا تجھ رخ سے نہ برقع اٹھا اے غیرت خورشید ذرہ ترا مشتاقوں نے دیدار نہ پایا ہم سر ہی پٹکتے رہے دروازے کے باہر پر گھر میں ترے آنا کبھی بار نہ ...

    مزید پڑھیے

    جی بھرا آتا ہے خالی مے کا پیالہ دے گیا

    جی بھرا آتا ہے خالی مے کا پیالہ دے گیا دیکھیو کیا آج ہم کو شوخ بالا دے گیا اس بت پیماں گسل کو جب کہ میں لاتا ہوں گھر کوئی نکوئی دے کے بالا مجھ کو تالا دے گیا چاک سینہ کو جگر کو داغ دل کو درد‌ زخم تاجر غم شہر الفت کے یہ کالا دے گیا کل کے دن دکھلا کے اپنا جلوۂ صنعت گری یاد اپنی شب ...

    مزید پڑھیے

    یک دو جام اور بھی دے تو ساقی

    یک دو جام اور بھی دے تو ساقی نہ رہے دل میں آرزو ساقی میری تسکیں نہ ہوگی ساغر سے منہ سے میرے لگا سبو ساقی رات و دن مے کشوں کو رہتی ہے تیری ہی یاد و جستجو ساقی رند مفلس کو دے ہے زیاد شراب بھائی مجھ کو تری یہ خو ساقی آہ تجھ بن ہیں زار و نالاں ہم بھولی مستی کی ہاو ہو ساقی شیشۂ مے کی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3