جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے
جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارے نہ حشر کو بھی اٹھیں گے نگاہ کے مارے مثال برگ خزاں صرصر فراق سے آہ پٹکتے پھرتے ہیں سر ہم تباہ کے مارے عزیزو دل نہ دو یوسف کی کر کے چاہ کبھی کہ جا کے چاہ میں گرتے ہیں چاہ کے مارے الٰہی حشر میں آواز صور سن کیوں کر اٹھوں گا آہ میں بار گناہ کے مارے حذر ...