Meerza Jawan Bakht Jahandar

مرزا جواں بخت جہاں دار

  • 1749

مغلیہ سلطنت کے ولی عہد

Crown prince of the Mughal Emperor Shah Alam who migrated to Lucknow and then to Varanasi due to political turmoil at Delhi Court

مرزا جواں بخت جہاں دار کے تمام مواد

30 غزل (Ghazal)

    یار کے بن بہار کیا کیجے

    یار کے بن بہار کیا کیجے گل نہ ہووے تو خار کیا کیجے کام میرا تو ہو چلا آخر اے مرے کردگار کیا کیجے کوئی وعدہ وفا نہیں کرتا وہ تغافل شعار کیا کیجے مثل آئینہ خود نما میرا سب سے ہو ہے دو چار کیا کیجے سوز دل میرا مجھ کو دے ہے جلا آہ مثل چنار کیا کیجے عشق نے کر دیا مجھے مجبور اب نہیں ...

    مزید پڑھیے

    اے ظالم ترے جب سے پالے پڑے

    اے ظالم ترے جب سے پالے پڑے ہمیں اپنے جینے کے لالے پڑے پھرے ڈھونڈتے پا برہنہ تجھے یہاں تک کہ پاؤں میں چھالے پڑے کیا ہے یہ طغیاں مرے اشک نے کہ بہتے ہیں دنیا میں نالے پڑے چلا غیر پر نئیں یہ تیر نگاہ ہماری ہی چھاتی پہ بھالے پڑے ہمیں کیوں کہ وہ شوخ بالے نہ دے کہ اب کان میں کان بالے ...

    مزید پڑھیے

    دل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تری

    دل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تری دیدہ ہیں قبلہ نما کعبۂ صورت کی تری غیر کے واسطے پکڑے ہے تو ہر دم سو بار متحمل نہیں ہم ایسے کدورت کی تری بو الہوس جان نہیں کھونے کے خاطر سے تری ہم ہیں سر دینے کو ہیں وقت ضرورت کی تری مصحف حسن ہے لو مکھڑا ترا ہے والشمس یاد رہتی ہے مجھے نت اسی ...

    مزید پڑھیے

    سینۂ پر سوز یکسو چشم گریاں یک طرف

    سینۂ پر سوز یکسو چشم گریاں یک طرف دل بچے کیا یک طرف آتش ہے طوفاں یک طرف دام سبزے کے سے بچنا طائر دل ہے محال سبزۂ خط یک طرف زلف پریشاں یک طرف مستعد ہیں اس بت طناز پر بہر نثار یک طرف صبر و دل و دیں جان و ایماں یک طرف کس پہ شب خوں مارنے کوں کی صف آرا فوج ناز یک طرف سیاہی مسی کی سرخی ...

    مزید پڑھیے

    دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اور

    دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اور بان اس کڑک سے جاوے ہے کب آسماں کی اور مسجد کو چھوڑ آئے کلیسائیاں کی اور چھوڑا نواح کعبہ چلے ہم بتاں کی اور زاہد ترے کمال پہ ماریں ہیں پشت پا لائے فرو سر اپنا جو پیر مغاں کی اور سکھ نیند بے خودی کی اسے ترت آ گئی لاگا جو گوش ٹک بھی مری داستاں کی ...

    مزید پڑھیے

تمام