معلوم ہی نہیں کہ مجھے کیا بلا ہوا

معلوم ہی نہیں کہ مجھے کیا بلا ہوا
کچھ دیکھتے ہی تجھ کو یہ دل مبتلا ہوا


گرمیٔ بزم آج ہے کچھ حد ستی زیاد
دیوار پیچھے کوئی نہ ہو دل جلا ہوا


تسکیں ہوئی اسے جو گیا بے قرار واں
کوچہ ترا کہاں ہوا دار الشفا ہوا


بوسہ کے مانگنے کے سوا اور کچھ بتا
تقصیر ہم نے کیا کی جو اتنا خفا ہوا


لگتے ہی ٹھیس پھوڑے کی مانند بہہ چلا
کیا کہیے آہ دل نہ ہوا آبلہ ہوا


گل دل فگار و لالہ ہوا غم سے داغ دار
جیسے کہ تیرے ہاتھوں پہ رنگ حنا ہوا


دولت سے داغ عشق کے سینہ مرا تمام
آ دیکھ مثل تختۂ گل خوش فضا ہوا


اس کی گلی میں دیکھا جہاں دارؔ کے تئیں
مانند نقش پا تھا سر رہ پڑا ہوا