تنہا نہ مہر میں ہے رخ یار کی طرح

تنہا نہ مہر میں ہے رخ یار کی طرح
مہ میں تمام اس کے ہے رخسار کی طرح


حیران ایسے نئیں ہوئی آنکھوں کو اس کی دیکھ
نرگس چمن میں رہتی ہے بیمار کی طرح


میں سن کے جو قیاس کیا وہ دہان تنگ
خنداں تو ہے پہ خندۂ سوفار کی طرح


سینہ سپر ہوں بوالہوساں کب کہ یار کے
پیوستہ ابرو لڑتے ہیں تلوار کی طرح


رکھیو حذر اے دل کہ مجھے آج بے طرح
آتی نظر ہے شوخ دل آزار کی طرح


اغیار اس کی بزم میں ہیں اور در پر آہ
ہم ہی پڑے رہیں گے گنہ گار کی طرح


کہتے تھے قیس و وامق و فرہاد واہ وا
کوئی عاشقی کرے تو جہاں دارؔ کی طرح