Meer Asar

میر اثر

میر اثر کی غزل

    وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہے

    وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہے اس کے تئیں آپ سے سفر ہے تم جور و جفا کرو جو چاہو ان باتوں پہ کب مجھے نظر ہے تو آپ ہی خیر آپ شر ہے کچھ اور نہ نفع نے ضرر ہے ہم بے خبروں سے رہ خبردار اتنی تو بھلا تجھے خبر ہے گزری جاتی ہے ہر طرح سے دنیا گزران سر بسر ہے دل کے خطروں سے بے خطر ہوں سر سے پاؤں ...

    مزید پڑھیے

    کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی

    کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی مرتے مرتے بھی ہم نے آہ نہ کی تو نگہ کی نہ کی خدا جانے ہم تو ڈر سے کبھو نگاہ نہ کی سب کے جی میں یہ نالہ ہو گزرا ایک تیرے ہی دل میں راہ نہ کی آہ مر گئے پہ ناتوانی ایک بھی آہ سربراہ نہ کی وہ کسو اور سے کرے گا کیا جن نے تجھ سے اثرؔ نباہ نہ کی

    مزید پڑھیے

    مرض عشق دل کو زور لگا

    مرض عشق دل کو زور لگا جاں بلب ہوں خیال گور لگا بے طرح کچھ گھلا ہی جاتا ہے شمع کی طرح دل کو چور لگا تیرے مکھڑے کو یوں تکے ہے دل چاند کے جوں رہے چکور لگا در و دیوار پر ہر ایک طرف آنسوؤں سے اثرؔ کے شور لگا

    مزید پڑھیے

    کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی

    کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی جب دل سے ہوس ہی سب اڑا دی تا ہاتھ لگے نہ کھوج دل کا عیار نیں زلف ہی اٹھا دی پل مارتے خاک میں ملایا ٹک ہنس کے جدھر نظر ملا دی یا رب سوا لقائے وجہک لا مقصودی و لا مرادی دیتے ہو کسے یہ بد دعائیں کیا پیارے اثرؔ نیں پھر دعا دی

    مزید پڑھیے

    گرچہ دل میں ہی سدا جان جہاں رہتے ہو

    گرچہ دل میں ہی سدا جان جہاں رہتے ہو پر بظاہر نہیں معلوم کہاں رہتے ہو شکر للہ کہ ابھی کام تمہیں باقی ہے لے چکے دل تو ولے درپئے جاں رہتے ہو آ نکلتے ہو کدھر بھول کے بے خواہش دل اب بھی جاؤ وہیں ہر روز جہاں رہتے ہو اے خوش ابرو کوئی پھر ڈھب پہ چڑھا تازہ شکار یوں جو ہر وقت لیے تیر و کماں ...

    مزید پڑھیے

    نہ برق نہ شعلہ نے شرر ہوں

    نہ برق نہ شعلہ نے شرر ہوں جو کہئے سو قصہ مختصر ہوں جوں عکس میرا کہاں ٹھکانا تیرے جلوے سے جلوہ گر ہوں اے نقش قدم رہ فنا میں میں تجھ سے ٹک ایک پیشتر ہوں یہ خیر ہے خیر محض ہے تو بندہ گندہ جو میں بشر ہوں معلوم ہوئی نہ کچھ حقیقت میں کیا ہوں کون ہوں کدھر ہوں اے عمر بہ باد رفتہ لے ...

    مزید پڑھیے

    غم کو باہم بہم نہ کیجے

    غم کو باہم بہم نہ کیجے گر غم ہے تو غم کا غم نہ کیجے یک نیم نگہ ہے سو بھی کاری کچھ اس میں سے تو کم نہ کیجے گو ہم ہیں عاشق وفادار پر اتنا بھی ستم نہ کیجے بے فائدہ روئیے کہاں تک اب جی میں ہے چشم نم نہ کیجے غیروں کے پڑھانے کو میرا وصف اس طور سے یہ کرم نہ کیجے گو تیغ اصیل ہیں یہ ...

    مزید پڑھیے

    نالہ کرنا کہ آہ کرنا

    نالہ کرنا کہ آہ کرنا دل میں اثرؔ اس کے راہ کرنا کچھ خوب نہیں یہ تیری باتیں ہر چند مجھے نباہ کرنا تیرا وہ جور یہ مرا صبر انصاف سے ٹک نگاہ کرنا کیا لطف ہے لے کے دل مکرنا اور الٹے مجھے گواہ کرنا رحمت کے حضور بے گناہی مت شیخ کو رو سیاہ کرنا جی اب کے بچا خدا خدا کر پھر اور بتوں کی ...

    مزید پڑھیے

    اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئی

    اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئی سچ ہے کہ وقت جاتا رہا بات رہ گئی تیری صفات سے نہ رہا کام کچھ مجھے بس تیری صرف دوستی بالذات رہ گئی کہنے لگا وہ حال مرا سن کے رات کو سب قصے جا چکے یہ خرافات رہ گئی دن انتظار کا تو کٹا جس طرح کٹا لیکن کسو طرح نہ کٹی رات رہ گئی بس نقد جاں ہی صرف اثرؔ ...

    مزید پڑھیے

    کہوں کیا دل اڑانے کا ترا کچھ ڈھب نرالا تھا

    کہوں کیا دل اڑانے کا ترا کچھ ڈھب نرالا تھا وگرنہ ہر طرح سے اب تلک تو میں سنبھالا تھا کہاں اب کھل کے وہ رونا کدھر وہ اشک کی شورش کبھو کچھ پھوٹ بہتا ہے جگر پر وہ جو چھالا تھا ہوا آوارۂ دشت و بیاباں دیکھتے اپنے وہ طفل اشک جو الفت سے آنکھوں بیچ پالا تھا ترا غم کھا گیا میرا کلیجہ دل ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4