مرض عشق دل کو زور لگا میر اثر 07 ستمبر 2020 شیئر کریں مرض عشق دل کو زور لگا جاں بلب ہوں خیال گور لگا بے طرح کچھ گھلا ہی جاتا ہے شمع کی طرح دل کو چور لگا تیرے مکھڑے کو یوں تکے ہے دل چاند کے جوں رہے چکور لگا در و دیوار پر ہر ایک طرف آنسوؤں سے اثرؔ کے شور لگا