Meer Asar

میر اثر

میر اثر کی غزل

    خفا اس سے کیوں تو مری جان ہے

    خفا اس سے کیوں تو مری جان ہے اثرؔ تو کوئی دم کا مہمان ہے تیرے عہد میں سخت اندھیر ہے کہ عشق و ہوس ہر دو یکسان ہے کہوں کیا خدا جانتا ہے صنم محبت تری اپنا ایمان ہے دل و غم میں اور سینہ و داغ میں رفاقت کا یاں عہد و پیمان ہے تجھے بھی کبھو کچھ مرا ہے خیال مجھے مرتے مرتے ترا دھیان ...

    مزید پڑھیے

    میں تجھے واہ کیا تماشا ہے

    میں تجھے واہ کیا تماشا ہے ذہن میں آشنا تراشا ہے ہاتھ میں رکھیو تو سنبھالے ہوئے دل تو میرا یہ سیشا باشا ہے تو جو تولے ہے میرے من کی چاہ کچھ ترے ہاں بھی تولہ ماشہ ہے کیا کہوں تیری کاوش مژہ نے کس طرح سے جگر خراشا ہے خیر گزرے اثرؔ تو ہے بے باک اور وہ شوخ بے تحاشا ہے

    مزید پڑھیے

    لوگ کہتے ہیں یار آتا ہے

    لوگ کہتے ہیں یار آتا ہے دل تجھے اعتبار آتا ہے دوست ہوتا جو وہ تو کیا ہوتا دشمنی پر تو پیار آتا ہے تیرے کوچہ میں بے قرار ترا ہر گھڑی بار بار آتا ہے زیر دیوار تو سنے نہ سنے نام تیرا پکار آتا ہے حال اپنے پہ مجھ کو آپ اثرؔ رحم بے اختیار آتا ہے

    مزید پڑھیے

    دیجئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گے

    دیجئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گے پیارے یہ یاد رہے جان بھی دے بیٹھیں گے پائے دیوار کھڑے رہنے نہ دیجے بہتر اور ہٹ کر ترے کوچہ میں پرے بیٹھیں گے بے سر و پا ہیں کہاں جائیں گے جوں نقش قدم خاک پا ہم ترے قدموں ہی تلے بیٹھیں گے آتش عشق ترے سوختگاں جوں شعلہ جب تلک ہیں کوئی آرام لئے ...

    مزید پڑھیے

    کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا

    کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا یا یہی جور و جفا کیجئے گا دیکھیں دشنام کہاں تک دوگے دم میں سو بار دعا کیجئے گا نظر آتا ہے گرہ زلف سے کھول ہر طرف فتنہ بپا کیجئے گا جان و دل سے بھی گزر جائیں گے اگر ایسا ہی خفا کیجئے گا کی ہے بندے کے لئے یہ بیداد رحم ٹک بہر خدا کیجئے گا عشق کے صدقے ...

    مزید پڑھیے

    دل میں سو آرمان رکھتا ہوں

    دل میں سو آرمان رکھتا ہوں پیارے آخر میں جان رکھتا ہوں واہ ری عقل تجھ سے دشمن سے دوستی کا گمان رکھتا ہوں صبر چھٹ دل سب اور باتوں میں قابل امتحان رکھتا ہوں آہ تیرے بھی دھیان میں کچھ ہے کس قدر تیرا دھیان رکھتا ہوں تجھ سے ہر بار مل کے میں بے صبر نہ ملوں پھر یہ ٹھان رکھتا ہوں صرف ...

    مزید پڑھیے

    بے کسی میں اثر یگانہ ہے

    بے کسی میں اثر یگانہ ہے دل بھی اس کا نہیں بیگانہ ہے غرض آئینہ داری دل سے تیرا جلوہ تجھے دکھانا ہے مثل نقش قدم میں جب تئیں ہوں آنکھیں ہیں اور یہ آستانا ہے یہی تار نفس کی آمد و شد جامۂ تن کا تانا بانا ہے گلے ملنا نہ گو کہ ہاتھ لگے لیک منظور دل ملانا ہے نام عنقا نشان تیرے کا جوں ...

    مزید پڑھیے

    آشنا جو مزہ کا ہوتا ہے

    آشنا جو مزہ کا ہوتا ہے اپنے حق میں وہ کانٹے بوتا ہے شیخ جی ایک روز مجھ کو اثرؔ لگے کہنے عبث تو روتا ہے ان بتوں کے لئے خدا نہ کرے دین و دل یوں کوئی بھی کھوتا ہے نہ تجھے دن کو چین ہے اک آن ایک دم رات کو نہ سوتا ہے میں کہا خوب سن کے اے ناداں جا مشیخت کو کیوں ڈبوتا ہے تو ہے ملاں تری ...

    مزید پڑھیے

    زیست ہونی تعجبات ہے اب

    زیست ہونی تعجبات ہے اب مر ہی جانا بس ایک بات ہے اب دور میں تیرے ہے وہ کچھ اندھیر نہیں معلوم دن ہے رات ہے اب دل ہے زندہ نہ جی ہی جیتا ہے زندگی بد تر از ممات ہے اب اتنے بے دید بے شنید ہوئے نہ توجہ نہ التفات ہے اب ہجر کیسا وصال ہو بالفرض کچھ ہی صورت ہو مشکلات ہے اب جی ہی لینا بہ لطف ...

    مزید پڑھیے

    ہم غلط احتمال رکھتے تھے

    ہم غلط احتمال رکھتے تھے تجھ سے کیا کیا خیال رکھتے تھے نہ سنا تو نے کیا کہیں ظالم ورنہ ہم عرض حال رکھتے تھے نہ رہا انتظار بھی اے یاس ہم امید وصال رکھتے تھے جوہر آئینہ نیں دکھلایا سادہ رو جو کمال رکھتے تھے نہ سنا تھا کسو نے یہ تو غرور سبھی دلبر جمال رکھتے تھے آہ وہ دن گئے کہ ہم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4