خفا اس سے کیوں تو مری جان ہے
خفا اس سے کیوں تو مری جان ہے اثرؔ تو کوئی دم کا مہمان ہے تیرے عہد میں سخت اندھیر ہے کہ عشق و ہوس ہر دو یکسان ہے کہوں کیا خدا جانتا ہے صنم محبت تری اپنا ایمان ہے دل و غم میں اور سینہ و داغ میں رفاقت کا یاں عہد و پیمان ہے تجھے بھی کبھو کچھ مرا ہے خیال مجھے مرتے مرتے ترا دھیان ...