Meer Asar

میر اثر

میر اثر کی غزل

    بے وفا تجھ سے کچھ گلا ہی نہیں

    بے وفا تجھ سے کچھ گلا ہی نہیں تو تو گویا کہ آشنا ہی نہیں یا خدا پاس یا بتاں کے پاس دل کبھو اپنے ہاں رہا ہی نہیں دل سے جو چاہئے سو باندھئے بات میں نے واللہ کچھ کہا ہی نہیں تیرے کوچہ سے آہ جانے کو دل نہیں یا کہ اپنے پا ہی نہیں یاں تغافل میں اپنا کام ہوا تیرے نزدیک یہ جفا ہی ...

    مزید پڑھیے

    صرف غم ہم نے نوجوانی کی

    صرف غم ہم نے نوجوانی کی واہ کیا خوب زندگانی کی اپنی بیتی اگر میں تجھ سے کہوں بات نبڑے نہ اس کہانی کی تیرے داغوں کی اے غم الفت خوب ہم نے بھی باغبانی کی جوں نگہ دل گیا ہے آنکھوں کی راہ گرچہ ہم نے نگاہبانی کی کس کے ہاں تم کرم نہیں کرتے کبھو ایدھر نہ مہربانی کی اپنے نزدیک درد دل ...

    مزید پڑھیے

    نہ لگا لے گئے جہاں دل کو

    نہ لگا لے گئے جہاں دل کو آہ لے جائیے کہاں دل کو مجھ سے لے تو چلے ہو دیکھو پر توڑیو مت کہیں میاں دل کو آزما اور جس میں چاہے تو صبر میں کر نہ امتحاں دل کو یوں تو کیا بات ہے تری لیکن وہ نہ نکلا جو تھا گماں دل کو رکھ نہ تو اب دریغ نیم نگاہ مار مت دیکھ نیم جاں دل کو آہ کیا کیجے یاں ...

    مزید پڑھیے

    تو مری جان گر نہیں آتی

    تو مری جان گر نہیں آتی زیست ہوتی نظر نہیں آتی دل ربائی و دلبری تجھ کو گو کہ آتی ہے پر نہیں آتی حال دل مثل شمع روشن ہے گو مجھے بات کر نہیں آتی ہر دم آتی ہے گرچہ آہ پر آہ پر کوئی کارگر نہیں آتی کیا کہوں آہ میں کسو کے حضور نیند کس بات پر نہیں آتی نہیں معلوم دل پہ کیا گزری ان دنوں ...

    مزید پڑھیے

    تیرے وعدوں کا اعتبار کسے

    تیرے وعدوں کا اعتبار کسے گو کہ ہو تاب انتظار کسے اک نظر بھی ہے دید مفت نظر اتنی فرصت بھی اے شرار کسے جوں نگیں یاں سوائے روسیہی دہر کرتا ہے نامدار کسے دل تو ڈوبا اب اور دیکھیں ڈبائیں یہ مری چشم اشکبار کسے تیرے وعدوں کو میں سمجھتا ہوں دھوکا دیتا ہے میرے یار کسے تو بغل سے گیا ...

    مزید پڑھیے

    جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑی

    جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑی میرے ہی دل پہ میری آہ پڑی بے طرح کچھ مرے ہی جاتا ہے دل پہ حالت عجب تباہ پڑی تو کرے اب نباہ یا نہ کرے اپنے ذمے تو یاں نباہ پڑی دم بہ دم یوں جو بد گمانی ہے کچھ تو عاشق کی تجھ کو چاہ پڑی تیرے کوچہ میں جائے بن نہ رہے اب تو واں کی اثرؔ کو راہ پڑی

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 4