Meer Asar

میر اثر

میر اثر کی غزل

    تیرے آنے کا احتمال رہا

    تیرے آنے کا احتمال رہا مرتے مرتے یہی خیال رہا غم ترا دل سے کوئی نکلے ہے آہ ہر چند میں نکال رہا ہجر کے ہاتھ سے ہیں سب روتے یاں ہمیشہ کسے وصال رہا شمع ساں جلتے ہلتے کاٹی عمر جب تلک سر رہا وبال رہا مل گئے خاک میں ہی طفل سرشک میں تو آنکھوں میں گرچہ پال رہا سمجھئے اس قدر نہ کیجے ...

    مزید پڑھیے

    دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچ

    دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچ آ پڑا مفت میں عذاب کے بیچ کون رہتا ہے تیرے غم کے سوا اس دل خانماں خراب کے بیچ تیرے آتش زدوں نے مثل شرار عمر کاٹی ہے اضطراب کے بیچ کیا کہوں تجھ سے اب کے میں تجھ کو کس طرح دیکھتا ہوں خواب کے بیچ شمع فانوس میں نہ جب کے چھپے کب چھپے ہے یہ منہ نقاب کے ...

    مزید پڑھیے

    ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیں

    ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیں آہ اس کا بھی تجھ کو پاس نہیں بے وفا کچھ نہیں تری تقصیر مجھ کو میری وفا ہی راس نہیں قتل میرا ہے تیری بد نامی جان کا ورنہ کچھ ہراس نہیں تو ہی بہتر ہے ہم سے آئینے ہم تو اتنے بھی روشناس نہیں یوں خدا کی خدائی برحق ہے پر اثرؔ کی ہمیں تو آس نہیں

    مزید پڑھیے

    جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کر

    جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کر شبنم کی طرح مجھے رلا کر مہمان ہو یا کہ یاں تو آ کر یا رکھ مجھے اپنے ہاں بلا کر در پر تیرے ہم نے خاک چھانی نقد دل خاک میں ملا کر مانوس نہ تھا وہ بت کسو سے ٹک رام کیا خدا خدا کر کن نے کہا اور سے نہ مل تو پر ہم سے بھی کبھو ملا کر گو زیست سے ہیں ہم آپ ...

    مزید پڑھیے

    کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے

    کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے مرے دل میں سوا تیرے خدا کا نام رہتا ہے کچھ ان روزوں دل اپنا سخت بے آرام رہتا ہے اسی حالت میں لے کر صبح سے تا شام رہتا ہے کلیجہ پک گیا ہے کیا کہوں اس دل کے ہاتھوں سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ اس میں خیال خام رہتا ہے بیاں میں کیا کروں اس سے اب آگے ...

    مزید پڑھیے

    اثرؔ اب تک فریب کھاتا ہے

    اثرؔ اب تک فریب کھاتا ہے تیری باتوں کو مان جاتا ہے دل کڑا کر کے تجھ سے کچھ تو کہوں جی میں سو بار یہ ہی آتا ہے خوش گزرتی نہیں ہے کوئی آن اشتیاق اب نپٹ ستاتا ہے دل کو وعدے سے کل نہیں ہوتی روز تو آج کل بتاتا ہے بت کافر کی بے مروتیاں یہ ہمیں سب خدا دکھاتا ہے دل مرا تو نے ہی چرایا ...

    مزید پڑھیے

    جو بات ہے تیری سو نرالی

    جو بات ہے تیری سو نرالی عشاق کشی نئی نکالی تیر مژگان بھی ہے اس پر ابرو کی تیغ بھی سنبھالی سمجھے ہے ظاہراً وہ دل کی دیتا ہے جو در جواب گالی ناخن زن ہیں بدل یہ انگشت یہ صرف نہیں حنا کی لالی ہیں روز ازل سے ہم گرفتار دیکھی نہ کبھو فراغ بالی تو تو ہے ہی پہ میں بھی پیارے ہوں بے ...

    مزید پڑھیے

    اثرؔ کیجئے کیا کدھر جائیے

    اثرؔ کیجئے کیا کدھر جائیے مگر آپ ہی سے گزر جائیے کبھو دوستی ہے کبھو دشمنی تری کون سی بات پر جائیے مرا دل مرے ہاتھ سے لیجئے اور ستم ہے مجھی سے مکر جائیے کَے روز کی زندگانی ہے یاں بنے جس طرح زیست کر جائیے اثرؔ ان سلوکوں پہ کیا لطف ہے پھر اس بے مروت کے گھر جائیے

    مزید پڑھیے

    کر کے دل کو شکار آنکھوں میں

    کر کے دل کو شکار آنکھوں میں گھر کرے ہے تو یار آنکھوں میں چشم بد دور ہو نظر نہ کہیں ہے نپٹ ہی بہار آنکھوں میں اور سب چہرہ بازیوں کے سوا عشوہ ہے صد ہزار آنکھوں میں کیا کہوں کچھ کہی نہیں جاتی باتیں ہیں بے شمار آنکھوں میں جس گھڑی گھورتے ہو غصہ سے نکلے پڑتا ہے پیار آنکھوں میں تیر ...

    مزید پڑھیے

    ایک تنہا خاطر محزوں جسے افکار سو

    ایک تنہا خاطر محزوں جسے افکار سو ایک مجھ بیمار سے وابستہ ہیں آزار سو ہے تعجب نوک مژگاں سے جو خوں آلودہ ہوں خوں گرفتہ ایک دل اور خنجر خونخوار سو مو بہ مو کیوں کر نہ ہو مجھ کو گرفتاریٔ زلف کافر عشق بتاں میں ایک اور زنار سو دو بہ دو کب ہو سکیں اس کے اثرؔ ہے آنکھ نار کیا ہوا، ہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4