meenakshi jijivisha

مناکشی جی جی ویشا

مناکشی جی جی ویشا کی غزل

    آرزو اور خواب لے جاؤ

    آرزو اور خواب لے جاؤ ہر امانت جناب لے جاؤ ہجر ہم سے سہا نہ جائے گا ساتھ اپنے عذاب لے جاؤ کام آئیں گی تجربے کے لیے زندگی کی کتاب لے جاؤ آپ سے جو بھی خار کھاتے ہیں ان کی خاطر گلاب لے جاؤ ہر اندھیرے میں کام آئے گا علم کا آفتاب لے جاؤ آپ کو دے رہے ہیں دل اپنا اچھا ہے یا خراب لے ...

    مزید پڑھیے

    روح پہنے اک بدن سے مر رہے ہیں

    روح پہنے اک بدن سے مر رہے ہیں حرف جو میرے سخن سے مر رہے ہیں کوئی خواہش دل میں جل کر مر گئی ہے اور ہم اس کی جلن سے مر رہے ہیں خوشبوئیں جانے کیوں ہجرت کر رہی ہیں پھول جانے کس چبھن سے مر رہے ہیں مانگ لو کچھ ان سے تم ورنہ یہ تارے ٹوٹ کر یوں بھی گگن سے مر رہے ہیں جب سے باہر ذہن سے جینے ...

    مزید پڑھیے

    گر مانتے ہو اس کو خدا مطمئن رہو

    گر مانتے ہو اس کو خدا مطمئن رہو جو بھی ملا ہے جتنا ملا مطمئن رہو جب لشکر امید کو خوف شکست تھا تب آسماں سے آئی صدا مطمئن رہو عورت نے جب بھی بات کی اپنے حقوق کی دنیا نے ساتھ مل کے کہا مطمئن رہو ساگر ہے صرف دریا کی موزوں کے دم سے ہی اب یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا مطمئن رہو تم پیڑ سے پھلوں ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو لوٹی ہے چراغوں کو بجھا کے پیچھے

    یہ جو لوٹی ہے چراغوں کو بجھا کے پیچھے حوصلے اور کسی کے ہیں ہوا کے پیچھے چھوڑ کر اتنی حسیں دنیا کو دیوانے لوگ جانے کیا دیکھنے جاتے ہیں قضا کے پیچھے ٹھیک ہے اس نے دعا دی ہے تمہیں بھی لیکن اس کی خواہش بھی پتہ کرنا دعا کے پیچھے کام اتنی تو چلو آ گئی گویائی مری اس کی خوشبو ہے چلی آئی ...

    مزید پڑھیے

    ہم انہیں درد دل سناتے ہیں

    ہم انہیں درد دل سناتے ہیں وہ فقط ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اپنے وعدوں کو بھول جاتے ہیں بے وفا وہ ہمیں بتاتے ہیں جن کے کردار میں ہیں داغ کئی وہ ہمیں آئنہ دکھاتے ہیں ساتھ دیتے نہیں کسی کا بھی ساتھ سب کے نظر جو آتے ہیں جس کی فطرت کو جانتے ہیں ہم اس سے امید کیوں لگاتے ہیں جن اندھیروں ...

    مزید پڑھیے

    اپنی ہستی مٹا کے کیا ہوگا

    اپنی ہستی مٹا کے کیا ہوگا اس کو اپنا بنا کے کیا ہوگا جن کے چہرہ پہ ہیں کئی چہرہ ان کو شیشہ دکھا کے کیا ہوگا اپنے حق کے لیے لڑو کھل کر یوں ہی آنسو بہا کے کیا ہوگا جب ہیں پردیس میں سجن تو پھر ہاتھ مہندی رچا کے کیا ہوگا بے وفاؤں کو حال دل اپنا چھوڑیئے بھی سنا کے کیا ہوگا ان کو خود ...

    مزید پڑھیے

    اگر نہ روئیں تو آنکھوں پہ بوجھ پڑتا ہے

    اگر نہ روئیں تو آنکھوں پہ بوجھ پڑتا ہے کریں جو گریہ تو راتوں پہ بوجھ پڑتا ہے پرندے چھوڑ کے تنہا اگر چلے جائیں تو پھر درخت کی شاخوں پہ بوجھ پڑتا ہے خطائے عشق کو اب صرف سوچنے بھر سے ہماری روح کے چھالوں پہ بوجھ پڑتا ہے یہ چاند کرتا ہے آرام جب اماوس میں سیاہ رات میں تاروں پہ بوجھ ...

    مزید پڑھیے

    وہ بے وفا ہے ہمیں یہ ملال تھوڑی ہے

    وہ بے وفا ہے ہمیں یہ ملال تھوڑی ہے ہمیں بھی رات دن اس کا خیال تھوڑی ہے ابھی ہے قید میں بے شک جہاں کی رسموں کے ابھی سزاؤں سے ناری بحال تھوڑی ہے غلام اپنا بنا لیں جو خواہشات کو ہم بسر غریبی میں کرنا محال تھوڑی ہے ہماری آنکھ میں شرم و حیا کا ہے پردہ نظر ملائے کوئی یہ مجال تھوڑی ...

    مزید پڑھیے