گر مانتے ہو اس کو خدا مطمئن رہو
گر مانتے ہو اس کو خدا مطمئن رہو
جو بھی ملا ہے جتنا ملا مطمئن رہو
جب لشکر امید کو خوف شکست تھا
تب آسماں سے آئی صدا مطمئن رہو
عورت نے جب بھی بات کی اپنے حقوق کی
دنیا نے ساتھ مل کے کہا مطمئن رہو
ساگر ہے صرف دریا کی موزوں کے دم سے ہی
اب یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا مطمئن رہو
تم پیڑ سے پھلوں کی توقع ہی مت رکھو
گر مل رہی ہے اس سے ہوا مطمئن رہو
ہم ہجر میں یہ کہتے رہے دل سے بار بار
وہ ہے فقط ذرا سا خفا مطمئن رہو
چارہ گری کی جب بھی کی زخموں نے التجا
ہنس کر فقیر نے یہ کہا مطمئن رہو
سارے بیان عشق میں میرے خلاف ہیں
تم کو نہیں ملے گی سزا مطمئن رہو