اگر نہ روئیں تو آنکھوں پہ بوجھ پڑتا ہے

اگر نہ روئیں تو آنکھوں پہ بوجھ پڑتا ہے
کریں جو گریہ تو راتوں پہ بوجھ پڑتا ہے


پرندے چھوڑ کے تنہا اگر چلے جائیں
تو پھر درخت کی شاخوں پہ بوجھ پڑتا ہے


خطائے عشق کو اب صرف سوچنے بھر سے
ہماری روح کے چھالوں پہ بوجھ پڑتا ہے


یہ چاند کرتا ہے آرام جب اماوس میں
سیاہ رات میں تاروں پہ بوجھ پڑتا ہے


تم ان کو علم دو لیکن یہ احتیاط رکھو
ہو بھاری بستہ تو بچوں پہ بوجھ پڑتا ہے


سکوت اتنا ہمیں راس آ گیا ہے کہ اب
جو کچھ سنیں بھی تو کانوں پہ بوجھ پڑتا ہے


تمہاری یاد کی اجڑی ہوئی حویلی میں
ہے اتنی دھول کہ سانسوں پہ بوجھ پڑتا ہے


ہم اس خیال سے ہجرت بھی کر نہیں سکتے
قدم بڑھائیں تو راہوں پہ بوجھ پڑتا ہے