رشحات
کوئی شاخ تشنہ و خشک جس سے ہری نہ ہو وہ سحاب کیا جو چھلک کے رنگ نہ بھر سکے رگ و ریشہ میں وہ شباب کیا دل گم شدہ کو میں ڈھونڈنے کہیں شب کو محو جنوں چلا تو صدا سی آئی یہ سینہ سے کہ تلاش خانہ خراب کیا طرب آفریں سہی رت کبھی ملے بار سوز کو ساز میں نہ تنوع اتنا بھی جس کی طرز نوا میں ہو وہ رباب ...