Meem Hasan Lateefi

م حسن لطیفی

  • 1905 - 1959

م حسن لطیفی کی نظم

    رشحات

    کوئی شاخ تشنہ و خشک جس سے ہری نہ ہو وہ سحاب کیا جو چھلک کے رنگ نہ بھر سکے رگ و ریشہ میں وہ شباب کیا دل گم شدہ کو میں ڈھونڈنے کہیں شب کو محو جنوں چلا تو صدا سی آئی یہ سینہ سے کہ تلاش خانہ خراب کیا طرب آفریں سہی رت کبھی ملے بار سوز کو ساز میں نہ تنوع اتنا بھی جس کی طرز نوا میں ہو وہ رباب ...

    مزید پڑھیے

    مجھے بھول جاؤ

    چلو یوں سہی میرا دل دل نہیں تھا وفا کا لہو اس میں شامل نہیں تھا یہ سچی محبت کا حامل نہیں تھا تمہاری پرستش کے قابل نہیں تھا یہ بہتر ہے اب تم مجھے بھول جاؤ غضب کی تھی اف وہ ملاقات پہلی جب اک کم زباں سے تھی کی بات پہلی وہ ہلکی سی بوندیں وہ برسات پہلی خدا جانے کیسی تھی وہ رات پہلی یہ ...

    مزید پڑھیے

    کیا کہئے

    غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا میں عالم غم اپنا عالم سے نہیں کہتا پڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں دکھ اپنا میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا رہ گیر ہوں میں ایسا ہر خم سے گزرتا ہے دعوت پہ جو رندان خرم سے نہیں کہتا موسم ہمہ گردش ہے پس ماندۂ گردش میں لب تشنہ کوئی یہ شے کیوں ...

    مزید پڑھیے

    امروز

    گلہ ہے کم نگہی کو میں کامگار نہیں ہنوز ندرت کردار آشکار نہیں مرا وہ سوز ہے نا محرموں میں بے تعبیر مہ و ستارہ کو جس کے لیے قرار نہیں مرا سکوت جواب آئنہ ہے ان کے لیے وہ جن کی رائے میں دیوانہ ہونہار نہیں نہیں ہے کوئی درخشندہ برق جس کی مثال مشابہ جس کے کوئی گہر آبدار نہیں سزائے ...

    مزید پڑھیے

    دعا

    مرا جسم تحلیل غم ہو چکے جب تو بن جائے خوں‌‌ گشتۂ فریاد یا رب وہ انگڑائی لے پھر تڑپ کر قفس میں سحر بن کے ہو جائے شق ہر تہ شب گریبان مشرق کی روداد لے کر پہنچ جائے تا بام سرکار یثرب

    مزید پڑھیے

    کس کی بد گمانی پر

    حسن کو بد گمان رہنے دے راز دل راز دان رہنے دے نگۂ نیم کش کی عمر دراز نوبت اک درمیان رہنے دے حسرت عنفوان راز و نیاز روح پر حکمران رہنے دے عشق کی کائنات ہے حرماں آرزو کا زیان رہنے دے نقش نا کندہ کے تصور کا یہ مٹا سا نشان رہنے دے قسمت عشق تو ہے قسمت عشق بارے منت کی شان رہنے دے نا سزا ...

    مزید پڑھیے

    مشرب

    کیوں کہئے کسی سے کہ ہمیں کوئی پلائے قسمت میں اگر مے نہیں مل جائے گی چائے صہبا نہ ہو شبنم سہی چائے ہو کہ زہراب شے بس وہی جو غم زدہ کے غم کو بھلائے پینے کا سلیقہ ہو تو بے مول بھی پی لیں ویرانہ بھی ہو کیف گہ صحرا بھی سرائے ساقی کو ہے بے جنبش لب تشنہ لبی شاق کیوں ساقی گری کے کوئی یوں ناز ...

    مزید پڑھیے