Meem Hasan Lateefi

م حسن لطیفی

  • 1905 - 1959

م حسن لطیفی کی غزل

    چشم ملت میں مکیں کون ہے آغا شورش

    چشم ملت میں مکیں کون ہے آغا شورش گوشۂ دل کے قریں کون ہے آغا شورش شعر و انشا کی بہاریں ہیں بہاریں جس سے وہ بہاروں سے حسیں کون ہے آغا شورش جس پہ بے تول خزانے بھی لٹا کے نہ ہوں سیر بے بہا در‌ ثمیں کون ہے آغا شورش جس کی جانکاہیٔ ایثار سے زنداں بھی تھا طور وہ درخشندہ نگیں کون ہے آغا ...

    مزید پڑھیے

    حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم

    حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم خاک میں جان ڈال کر خاک اڑا رہے ہو تم عبرت ذوق زہر خندۂ ذوق زبونی دو چند شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بجھا رہے ہو تم میرے عدم میں بھی بہم تھا ستم ازل کا غم پہلے ہی میں نزار تھا اور ستا رہے ہو تم سوز تو سوز ہے مگر ساز بھی سوز ہو نہ جائے ساز کو آج ...

    مزید پڑھیے

    نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دور (ردیف .. ہ)

    نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دور منزل ہے شناسائی منزل سے بہت دور دشوار سہی دور نہیں نکتہ رسی سے لیکن ہے غلط رسمیٔ راحل سے بہت دور یہ عین خودی عشق کے آثار میں ہے غم پہلو سے ہے کم دور مقابل سے بہت دور ہر سہل طلب سے تو ہے برگشتہ بدیہہ ہر سائل کامل کے بھی حاصل سے بہت دور قربانیاں ...

    مزید پڑھیے

    غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا

    غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا میں عالم غم اپنا عالم سے نہیں کہتا پڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں دکھ اپنے میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا رہ گیر ہوں میں ایسا ہر غم سے گزرتا ہے دعوت پہ جو رندان خرم سے نہیں کہتا موسم ہمہ گردش ہے پس ماندۂ گردش ہے لب تشنہ کوئی یہ شے ...

    مزید پڑھیے