Mazhar Imam

مظہر امام

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروٖف۔ دوردرشن سے وابستہ

One of the most prominent modern poets. Was associated with Doordarshan

مظہر امام کے تمام مواد

50 غزل (Ghazal)

    نہ ہم نوا مرے ذوق خرام کا نکلا

    نہ ہم نوا مرے ذوق خرام کا نکلا یہ راستہ بھی اسی نرم گام کا نکلا نئے گلوں کی صدائے شگفت تیز ہوئی ہوا کے لمس سے رشتہ کلام کا نکلا مصوری نہ سہی کام آئی بے ہنری کوئی بہانہ تو ان سے سلام کا نکلا تلاش رزق میں نکلے تھے مہر صبح لیے عقب سے پہلا ستارہ بھی شام کا نکلا یہاں بھی دھوپ چلی آئی ...

    مزید پڑھیے

    حرف دل نارسا ہے ترے شہر میں

    حرف دل نارسا ہے ترے شہر میں ہر صدا بے صدا ہے ترے شہر میں کوئی خوشبو کی جھنکار سنتا نہیں کون سا گل کھلا ہے ترے شہر میں کب دھنک سو گئی کب ستارے بجھے کوئی کب سوچتا ہے ترے شہر میں اب چناروں پہ بھی آگ کھلنے لگی زخم لو دے رہا ہے ترے شہر میں جتنے پتے تھے سب ہی ہوا دے گئے کس پہ تکیہ رہا ...

    مزید پڑھیے

    تجھے بھی جانچتے اپنا بھی امتحاں کرتے

    تجھے بھی جانچتے اپنا بھی امتحاں کرتے کہیں چراغ جلاتے کہیں دھواں کرتے کئی تھے جلوۂ نایاب تجھ سے پہلے بھی کس آسرے پہ ترا نقش جاوداں کرتے سفینہ ڈوب رہا تھا تو کیوں نہ یاد آیا تری طلب ترے ارماں کو بادباں کرتے محبتیں بھی تری ہیں شکایتیں بھی تری یقین تجھ پہ نہ ہوتا تو کیوں گماں ...

    مزید پڑھیے

    درد عالم بھی کہیں درد محبت ہی نہ ہو

    درد عالم بھی کہیں درد محبت ہی نہ ہو دل کے بہلانے کی یہ بھی کوئی صورت ہی نہ ہو آج تزئین جمال ایک فسانہ ہی سہی کل یہ مشاطگئی حسن حقیقت ہی نہ ہو ان کی آنکھوں میں مچلتا ہے جو افسانۂ شوق سوچتا ہوں کہیں وہ میری حکایت ہی نہ ہو بے رخی پر جسے محمول کیا کرتا ہوں وہ بھی کچھ آپ کا انداز محبت ...

    مزید پڑھیے

    اب بھی پردے ہیں وہی پردہ دری تو دیکھو

    اب بھی پردے ہیں وہی پردہ دری تو دیکھو عقل کا دعویٰ بالغ نظری تو دیکھو سر پٹکتے ہیں کہ دیوار خمستاں ڈھا دیں حضرت شیخ کی آشفتہ سری تو دیکھو آج ہر زخم کے منہ میں ہے زبان فریاد میرے عیسیٰ کی ذرا چارہ گری تو دیکھو قید نظارہ سے جلووں کو نکلنے نہ دیا دوستوں کی یہ وسیع النظری تو ...

    مزید پڑھیے

تمام

5 نظم (Nazm)

    اکھڑتے خیموں کا درد

    کہیں بھی جائے اماں نہیں ہے نہ روشنی میں نہ تیرگی میں نہ زندگی میں نہ خودکشی میں عقیدے زخموں سے چور پیہم کراہتے ہیں یقین کی سانس اکھڑ چلی ہے جمیل خوابوں کے چہرۂ غمزدہ سے ناسور رس رہا ہے عزیز قدروں پہ جاں کنی کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے پتنگ کی طرح کٹ چکے ہیں تمام رشتے جو آدمی کو قریب ...

    مزید پڑھیے

    بے ادب ستاروں نے

    بے ادب ستاروں نے نیند میں مخل ہو کر تم سے کچھ کہا ہوگا لیکن ان کی باتوں کا تم یقین مت کرنا آؤ آ کے خود دیکھو مضطرب کہاں ہوں میں

    مزید پڑھیے

    رشتہ گونگے سفر کا

    یہ کس جنم میں ہم دوبارہ ملے ہیں یہ خط رنگ قد سب مجھے جانتے ہیں مرے لمس سے آشنا ہیں میں بھٹکا ہوں کتنے سرابوں میں صحراؤں میں کئی کارواں مجھ سے آگے گئے ان کے نقش کف پا ابھی مشتعل ہیں ابھی دھول نے ان پہ چادر بچھائی نہیں ہے مجھ سے پیچھے نئے کاروانوں کی گرد اڑا رہی ہے کچھ جیالے ...

    مزید پڑھیے

    آنگن میں ایک شام

    شام کی لمحہ لمحہ اترتی ہوئی دھند میں سر جھکائے ہوئے گھر کے خاموش آنگن میں بیٹھے ہوئے میری واماندہ آنکھوں کی جلتی ہوئی ریت سے اک بپھرتے سمندر کی آوارہ لہریں اچانک الجھنے لگیں شام کی رستہ رستہ اترتی ہوئی دھند میں اس بپھرتے سمندر کی آوارہ لہروں کو چوری چھپے دفن کرنا پڑا اس کھنڈر ...

    مزید پڑھیے

    اشتراک

    خیر اچھا ہو تم بھی میرے قبیلے میں آ ہی گئے اس قبیلے میں کوئی کسی کا نہیں ایک غم کے سوا چہرہ اترا ہوا بال بکھرے ہوئے نیند اچٹتی ہوئی خیر اچھا ہوا تم بھی میرے قبیلے میں آ ہی گئے آؤ ہم لوگ جینے کی کوشش کریں

    مزید پڑھیے