Mayank Awasthi

مینک اوستھی

مینک اوستھی کی غزل

    بچپن میں اس درخت پہ کیسا ستم ہوا

    بچپن میں اس درخت پہ کیسا ستم ہوا جو شاخ اس کی ماں تھی وہاں سے قلم ہوا منصف ہو یا گواہ منائیں گے اپنی خیر گر فیصلہ انا سے مری کچھ بھی کم ہوا اک روشنی تڑپ کے یہ کہتی ہے بارہا کیوں آسماں کا نور گھٹاؤں میں ضم ہوا یک لخت آ کے آج وہ مجھ سے لپٹ گیا جو فاصلہ دلوں میں تھا اشکوں میں ضم ...

    مزید پڑھیے

    کبھی یقین کی دنیا میں جو گئے سپنے

    کبھی یقین کی دنیا میں جو گئے سپنے اداسیوں کے سمندر میں کھو گئے سپنے برس رہی تھی حقیقت کی دھوپ گھر باہر سہم کے آنکھ کے آنچل میں کھو گئے سپنے کبھی اڑا کے مجھے آسمان تک لائے کبھی شراب میں مجھ کو ڈبو گئے سپنے ہمیں تھے نیند میں جو ان کو سائباں سمجھا کھلی جو آنکھ تو دامن بھگو گئے ...

    مزید پڑھیے

    اگر ہواؤں کے رخ مہرباں نہیں ہوتے

    اگر ہواؤں کے رخ مہرباں نہیں ہوتے تو بجھتی آگ کے تیور جواں نہیں ہوتے دلوں پہ برف جمی ہے لبوں پہ صحرا ہے کہیں خلوص کے جھرنے رواں نہیں ہوتے ہم اس زمین کو اشکوں سے سبز کرتے ہیں یہ وہ چمن ہے جہاں باغباں نہیں ہوتے کہاں نہیں ہیں ہمارے بھی خیر خواہ مگر جہاں گہار لگاؤ وہاں نہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3