تب اس کا زہر اسی کے بدن میں بھر جائے
تب اس کا زہر اسی کے بدن میں بھر جائے اگر زباں نہ چلائے تو سانپ مر جائے کھڑی ہے در پہ اجل اور مجھ میں جان نہیں کہو وہ دیر سے آئی ہے اپنے گھر جائے کوئی چراغ جہاں روشنی کا ذکر کرے سیاہ رات کا چہرہ وہیں اتر جائے وہ برگ خشک جسے شاخ نے لتاڑ دیا ہوا کے ساتھ نہ جائے تو پھر کدھر جائے یہ ...