Mayank Awasthi

مینک اوستھی

مینک اوستھی کی غزل

    تب اس کا زہر اسی کے بدن میں بھر جائے

    تب اس کا زہر اسی کے بدن میں بھر جائے اگر زباں نہ چلائے تو سانپ مر جائے کھڑی ہے در پہ اجل اور مجھ میں جان نہیں کہو وہ دیر سے آئی ہے اپنے گھر جائے کوئی چراغ جہاں روشنی کا ذکر کرے سیاہ رات کا چہرہ وہیں اتر جائے وہ برگ خشک جسے شاخ نے لتاڑ دیا ہوا کے ساتھ نہ جائے تو پھر کدھر جائے یہ ...

    مزید پڑھیے

    جب خود میں کچھ ملا نہ خد و خال کی طرح

    جب خود میں کچھ ملا نہ خد و خال کی طرح کچھ آئنہ میں ڈھونڈھ لیا بال کی طرح سوئی ہوئی ہے صبح کی تلوار جب تلک یہ شب ہے جگنوؤں کے لئے ڈھال کی طرح کچھ روشنی کے داغ اجالے کا ایک زخم کچھ تو ہے شب کے دل میں زر و مال کی طرح تحریر کر رہی ہے مری پست تشنگی جھیلوں کو پانیوں کے بچھے جال کی ...

    مزید پڑھیے

    وہ کون ہے وہ کیا ہے جو اس دل میں چھپا ہے

    وہ کون ہے وہ کیا ہے جو اس دل میں چھپا ہے جیسے کہ کوئی سانپ کسی بل میں چھپا ہے کیوں دوڑ کے آتی ہیں ادھر موجیں مسلسل کیا کم ہے سمندر میں جو ساحل میں چھپا ہے اک روح بلاتی ہے عناصر کے قفس سے پر ہوش کسی خواب کی محفل میں چھپا ہے سینہ کو مرے سنگ وہ ہونے نہیں دیتا کچھ موم کے جیسا بھی اسی ...

    مزید پڑھیے

    بکھر جائے نہ میری داستاں تحریر ہونے تک

    بکھر جائے نہ میری داستاں تحریر ہونے تک یہ آنکھیں بجھ نہ جائے خواب کی تعبیر ہونے تک چلائے جا ابھی تیشہ قلم کا کوہ ظلمت پر سیاہی وقت بھی لیتی ہے جوئے شیر ہونے تک اسی خاطر مرے اشعار اب تک ڈائری میں ہیں کسی عالم میں جی لیں گے یہ عالمگیر ہونے تک ترے آغاز سے پہلے یہاں جگنو چمکتے ...

    مزید پڑھیے

    کھلتی ہی نہیں آنکھ اجالوں کے بھرم سے

    کھلتی ہی نہیں آنکھ اجالوں کے بھرم سے شب رنگ ہوا جاؤں میں سورج کے کرم سے ترکیب یہی ہے اسے پھولوں سے ڈھکا جائے چہرہ کو بچانا بھی ہے پتھر کے صنم سے اک جھیل سریکھی ہے غزل دشت ادب میں جو دور تھی جو دور رہی دور ہے ہم سے آخر یہ کھلا وو سبھی تاجر تھے گہر کے جن کے بھی مراسم تھے مرے دیدۂ نم ...

    مزید پڑھیے

    خشک آنکھوں سے کوئی پیاس نہ جوڑی ہم نے

    خشک آنکھوں سے کوئی پیاس نہ جوڑی ہم نے آس ہم سے جو شرابوں کو تھی توڑی ہم نے بارہا ہم کو ملا اپنے لہو میں وہ شرر اپنی دکھتی ہوئی رگ جب بھی نچوڑی ہم نے جو سنورنے کو کسی طور بھی راضی نہ ہوئی بھاڑ میں پھینک دی دنیا وہ نگوڑی ہم نے اس طرح ہم نے سمندر کو پلایا پانی اپنی کشتی کسی ساحل پہ ...

    مزید پڑھیے

    سادگی پہچان جس کی خامشی آواز ہے

    سادگی پہچان جس کی خامشی آواز ہے سوچئے اس آئنہ سے کیوں کوئی ناراض ہے بے سبب سایوں کو اپنے لمبے قد پہ ناز ہے خاک میں مل جائیں گے یہ شام کا آغاز ہے یوں ہوا لہروں پہ کچھ تحریر کرتی ہے مگر جھوم کر بہتا ہے دریا کا یہی انداز ہے دیکھ کر شاہیں کو پنجرے میں پتنگا کچھ کہے جانتا وہ بھی ہے کس ...

    مزید پڑھیے

    تاروں سے اور بات میں کمتر نہیں ہوں میں

    تاروں سے اور بات میں کمتر نہیں ہوں میں جگنو ہوں اس لیے بھی فلک پر نہیں ہوں میں صدموں کی بارشیں مجھے کچھ تو گھلائیں گے پتلا ہوں خاک کا کوئی پتھر نہیں ہوں میں دریائے غم میں برف کے تودے کی شکل میں مدت سے اپنے قد کے برابر نہیں ہوں میں اس کا خیال اس کی زباں اس کے تذکرے اس کے قفس سے آج ...

    مزید پڑھیے

    ستارہ ایک بھی باقی بچا کیا

    ستارہ ایک بھی باقی بچا کیا نگوڑی دھوپ کھا جاتی ہے کیا کیا فلک کنگال ہے اب پوچھ لیجے سحر نے منہ دکھائی میں لیا کیا سب اک بہرے فنا کے بلبلے ہیں کسی کی ابتدا کیا انتہا کیا جزیرے سر اٹھا کر ہنس رہے ہیں ذرا سوچو سمندر کر سکا کیا خرد اک نور میں ضم ہو رہی ہے جھروکا آگہی کا کھل گیا ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں میں بس گیا کوئی بانہوں سے دور ہے

    آنکھوں میں بس گیا کوئی بانہوں سے دور ہے چاہا ہے چاند کو یہی اپنا قصور ہے دوزخ میں جی رہا ہوں اسی ایک آس پہ جنت کو کوئی راستہ جاتا ضرور ہے میں لڑکھڑا رہا ہوں صداقت کی راہ پہ اس روح پہ ابھی بھی بدن کا سرور ہے یہ روشنی کے داغ اجالے تو ہیں نہیں قاصر سا آسماں کے ستاروں کا نور ہے اب ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3