Mayank Awasthi

مینک اوستھی

مینک اوستھی کے تمام مواد

23 غزل (Ghazal)

    کوئی دستک کوئی ٹھوکر نہیں ہے

    کوئی دستک کوئی ٹھوکر نہیں ہے تمہارے دل میں شاید در نہیں ہے اسے اس دشت کا کیا خوف ہوگا وو اپنے جسم میں ہو کر نہیں ہے میاں کچھ روح ڈالو شاعری میں ابھی منظر میں پس منظر نہیں ہے تری دستار تجھ کو ڈھو رہی ہے ترے کاندھوں پہ تیرا سر نہیں ہے اسے لعنت سمجھئے آئنوں پر کسی کے ہاتھ میں پتھر ...

    مزید پڑھیے

    اک چاند تیرگی میں ثمر روشنی کا تھا

    اک چاند تیرگی میں ثمر روشنی کا تھا پھر بھید کھل گیا وہ بھنور روشنی کا تھا سورج پہ تو نے آنکھ تریری تھی یاد کر بینائیوں پہ پھر جو اثر روشنی کا تھا سب چاندنی کسی کی عنایت تھی چاند پر اس داغ دار شو پہ کور روشنی کا تھا مغرب کی مدبھری ہوئی راتوں میں کھو گیا اس گھر میں کوئی لخت جگر ...

    مزید پڑھیے

    وہی عذاب وہی آسرا بھی جینے کا

    وہی عذاب وہی آسرا بھی جینے کا وہ میرا دل ہی نہیں زخم بھی ہے سینے کا میں بے لباس ہی شیشہ کے گھر میں رہتا ہوں مجھے بھی شوق ہے اپنی طرح سے جینے کا وہ دیکھ چاند کی پر نور کہکشاؤں میں تمام رنگ ہے خورشید کے پسینے کا میں پرخلوص ہوں پھاگن کی دوپہر کی طرح ترا مزاج لگے پوس کے مہینے ...

    مزید پڑھیے

    بم پھوٹنے لگیں کہ سمندر اچھل پڑے

    بم پھوٹنے لگیں کہ سمندر اچھل پڑے کب زندگی پہ کون بونڈر اچھل پڑے دشمن مری شکست پہ منہ کھول کر ہنسے اور دوست اپنے جسم کے اندر اچھل پڑے گہرائیاں سمٹ کے بکھرنے لگیں تمام اک چاند کیا دکھا کہ سمندر اچھل پڑے مت چھیڑئیے ہمارے چراغ خلوص کو شاید کوئی شرار ہی منہ پر اچھل پڑے گھوڑوں کی ...

    مزید پڑھیے

    میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹوٹ جاتا ہے

    میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹوٹ جاتا ہے وفائیں گر نہ ہوں بنیاد میں گھر ٹوٹ جاتا ہے شناور کو کوئی دلدل نہیں دریا دیا جائے جہاں کم ظرف بیٹھے ہوں سخنور ٹوٹ جاتا ہے انا خود دار کی رکھتی ہے اس کا سر بلندی پر کسی پورس کے آگے ہر سکندر ٹوٹ جاتا ہے ہم اپنے دوستو کے طنز سن کر مسکراتے ...

    مزید پڑھیے

تمام