Mayank Awasthi

مینک اوستھی

مینک اوستھی کی غزل

    کوئی دستک کوئی ٹھوکر نہیں ہے

    کوئی دستک کوئی ٹھوکر نہیں ہے تمہارے دل میں شاید در نہیں ہے اسے اس دشت کا کیا خوف ہوگا وو اپنے جسم میں ہو کر نہیں ہے میاں کچھ روح ڈالو شاعری میں ابھی منظر میں پس منظر نہیں ہے تری دستار تجھ کو ڈھو رہی ہے ترے کاندھوں پہ تیرا سر نہیں ہے اسے لعنت سمجھئے آئنوں پر کسی کے ہاتھ میں پتھر ...

    مزید پڑھیے

    اک چاند تیرگی میں ثمر روشنی کا تھا

    اک چاند تیرگی میں ثمر روشنی کا تھا پھر بھید کھل گیا وہ بھنور روشنی کا تھا سورج پہ تو نے آنکھ تریری تھی یاد کر بینائیوں پہ پھر جو اثر روشنی کا تھا سب چاندنی کسی کی عنایت تھی چاند پر اس داغ دار شو پہ کور روشنی کا تھا مغرب کی مدبھری ہوئی راتوں میں کھو گیا اس گھر میں کوئی لخت جگر ...

    مزید پڑھیے

    وہی عذاب وہی آسرا بھی جینے کا

    وہی عذاب وہی آسرا بھی جینے کا وہ میرا دل ہی نہیں زخم بھی ہے سینے کا میں بے لباس ہی شیشہ کے گھر میں رہتا ہوں مجھے بھی شوق ہے اپنی طرح سے جینے کا وہ دیکھ چاند کی پر نور کہکشاؤں میں تمام رنگ ہے خورشید کے پسینے کا میں پرخلوص ہوں پھاگن کی دوپہر کی طرح ترا مزاج لگے پوس کے مہینے ...

    مزید پڑھیے

    بم پھوٹنے لگیں کہ سمندر اچھل پڑے

    بم پھوٹنے لگیں کہ سمندر اچھل پڑے کب زندگی پہ کون بونڈر اچھل پڑے دشمن مری شکست پہ منہ کھول کر ہنسے اور دوست اپنے جسم کے اندر اچھل پڑے گہرائیاں سمٹ کے بکھرنے لگیں تمام اک چاند کیا دکھا کہ سمندر اچھل پڑے مت چھیڑئیے ہمارے چراغ خلوص کو شاید کوئی شرار ہی منہ پر اچھل پڑے گھوڑوں کی ...

    مزید پڑھیے

    میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹوٹ جاتا ہے

    میاں مجبوریوں کا ربط اکثر ٹوٹ جاتا ہے وفائیں گر نہ ہوں بنیاد میں گھر ٹوٹ جاتا ہے شناور کو کوئی دلدل نہیں دریا دیا جائے جہاں کم ظرف بیٹھے ہوں سخنور ٹوٹ جاتا ہے انا خود دار کی رکھتی ہے اس کا سر بلندی پر کسی پورس کے آگے ہر سکندر ٹوٹ جاتا ہے ہم اپنے دوستو کے طنز سن کر مسکراتے ...

    مزید پڑھیے

    قید شب حیات بدن میں گزار کے

    قید شب حیات بدن میں گزار کے اڑ جاؤں گا میں صبح اذیت اتار کے اک دھوپ زندگی کو یوں صحرا بنا گئی آئے نہ اس اجاڑ میں موسم بہار کے یہ بے گناہ شمع جلے گی تمام رات اس کے لبوں سے چھو گئے تھے لب شرار کے سیلن کو راہ مل گئی دیمک کو سیرگاہ انجام دیکھ لیجئے گھر کی درار کے سجتی نہیں ہے تم پہ ...

    مزید پڑھیے

    فلک ہے سرخ مگر آفتاب کالا ہے

    فلک ہے سرخ مگر آفتاب کالا ہے اندھیرا ہے کہ ترے شہر میں اجالا ہے چمن میں ان دنوں کردار دو ہی ملتے ہیں کوئی ہے سانپ کوئی سانپ کا نوالہ ہے شب سفر تو اسی آس پر بتانی ہے اجل کے موڑ کے آگے بہت اجالا ہے جہاں خلوص نے کھائی شکست دنیا سے وہیں جنون نے اٹھ کر مجھے سنبھالا ہے میں کھو گیا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    اسی خاطر تو اس کی آرتی ہم نے اتاری ہے

    اسی خاطر تو اس کی آرتی ہم نے اتاری ہے غزل بھی ماں ہے اور اس کی بھی شیروں کی سواری ہے محبت دھرم ہے ہم شاعروں کا دل پجاری ہے ابھی فرقہ پرستوں پہ ہماری نسل بھاری ہے ستارے چاند سورج پھول جگنو ساتھ ہیں ہر دم کوئی سرحد نہیں ایسی عجب دنیا ہماری ہے وو دل کے درد کی خوشبو کا عالم ہے کہ مت ...

    مزید پڑھیے

    تھوڑا سا زندگی کا خسارہ ضرور ہے

    تھوڑا سا زندگی کا خسارہ ضرور ہے پر غم نے دل کا رنگ نکھارا ضرور ہے مہتاب پھر رہا ہے خلاؤں میں اس طرح جیسے کہ آسماں کا کنارہ ضرور ہے عالم میں دیکھیے تو کوئی بھی خدا نہیں عالم خدا کی سمت اشارہ ضرور ہے ہم کو یقیں ہے آپ کو دل کی کتاب میں اک ان لکھے سا نام ہمارا ضرور ہے کیا جانئے وہ ...

    مزید پڑھیے

    زباں کا قرض اترنے نہیں دیا میں نے

    زباں کا قرض اترنے نہیں دیا میں نے ہر ایک زخم کو ناسور کر لیا میں نے یہ سوچ کر کہ کوئی آسمان منزل ہے جنوں میں اپنا نشیمن جلا دیا میں نے وہ جس کی شکل بھی آنکھوں کو ناگوار ہوئی اسی کے طنز کو دل میں بسا لیا میں نے حسد کی ایک طوائف سہائی آنکھوں کو وفا سے اس لیے دامن چھڑا لیا میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3