Mateen Emadi

متین عمادی

متین عمادی کی غزل

    کردار کا اک حسن تھا کردار کے پیچھے

    کردار کا اک حسن تھا کردار کے پیچھے سرحد کی ہنسی تھی کسی تلوار کے پیچھے شاید وہ پرندوں کو غذا بانٹ رہا ہے مردہ ہے کوئی جسم جو کہسار کے پیچھے جذبات کا اک کوہ گراں رکھتا ہے دل پر دہکی ہوئی اک آگ ہے فن کار کے پیچھے باتوں کی صداقت کو کسی نے نہیں پرکھا سب دوڑ پڑے سرخیٔ اخبار کے ...

    مزید پڑھیے

    چہرہ نہیں تھا میلا قصور آئنے کا تھا

    چہرہ نہیں تھا میلا قصور آئنے کا تھا یہ سوچنا بھی اس کا عجب زاویے کا تھا میں کس طرح نہ اس کے بچھڑنے کا غم کروں ساتھی وہ میرا برسوں سے ہر راستے کا تھا دروازہ میرا کھول کے پوچھا ہواؤں نے کیا انتظار تم کو کسی دوسرے کا تھا دیکھا نہیں کسی نے اسے اعتماد سے جو کام کر گیا وہ بڑے حوصلہ کا ...

    مزید پڑھیے