کردار کا اک حسن تھا کردار کے پیچھے

کردار کا اک حسن تھا کردار کے پیچھے
سرحد کی ہنسی تھی کسی تلوار کے پیچھے


شاید وہ پرندوں کو غذا بانٹ رہا ہے
مردہ ہے کوئی جسم جو کہسار کے پیچھے


جذبات کا اک کوہ گراں رکھتا ہے دل پر
دہکی ہوئی اک آگ ہے فن کار کے پیچھے


باتوں کی صداقت کو کسی نے نہیں پرکھا
سب دوڑ پڑے سرخیٔ اخبار کے پیچھے


غزلوں میں متینؔ اپنی بڑا لطف ہے پنہاں
ہیں کتنے فسانے مرے اظہار کے پیچھے