چہرہ نہیں تھا میلا قصور آئنے کا تھا
چہرہ نہیں تھا میلا قصور آئنے کا تھا
یہ سوچنا بھی اس کا عجب زاویے کا تھا
میں کس طرح نہ اس کے بچھڑنے کا غم کروں
ساتھی وہ میرا برسوں سے ہر راستے کا تھا
دروازہ میرا کھول کے پوچھا ہواؤں نے
کیا انتظار تم کو کسی دوسرے کا تھا
دیکھا نہیں کسی نے اسے اعتماد سے
جو کام کر گیا وہ بڑے حوصلہ کا تھا
ہم سیڑھیوں پہ وقت کی چڑھتے رہے متینؔ
ہر دور زندگی کا نئے تجربے کا تھا