بیاں اپنی صفائی کر رہا ہے
بیاں اپنی صفائی کر رہا ہے وہ لفظوں سے لڑائی کر رہا ہے کروڑوں بت اگر ہیں بھی تو بت ہیں خدا تنہا خدائی کر رہا ہے بجھے گی اپنے گھر کی آگ کیسے دھواں پردہ کشائی کر رہا ہے خبر ماں باپ کی پردیس میں کیا مگر بیٹا کمائی کر رہا ہے وہ جس کو ہم نبھائے جا رہے ہیں مسلسل بے وفائی کر رہا ہے حسد ...