Manzoor Nadeem

منظور ندیم

  • 1953

منظور ندیم کی غزل

    درد کے کھیت میں مسکان اگانے والا

    درد کے کھیت میں مسکان اگانے والا کتنا خوش ظرف ہے زخموں کو چھپانے والا دل میں اخلاص وفاؤں کی ہے گٹھری سر پر آدمی ہے یہ کسی اور زمانے والا یاد آتا رہا تا دیر سفر میں مجھ کو ہاتھ رہ رہ کے دریچے سے ہلانے والا آگ کچھ اور گھروں کو بھی جلا ڈالے گی سوچتا کاش مرے گھر کو جلانے والا لوگ ...

    مزید پڑھیے

    منفرد رنگ ملے فکر میں جدت نکلے

    منفرد رنگ ملے فکر میں جدت نکلے میں اگر شعر کہوں اتنی تو اجرت نکلے کھڑکیاں کھول دو اڑ جانے دو خواہش کے پرند وہ جو سر میں ہے سمائی ہوئی وحشت نکلے سوچتا کیوں ہے بچھڑ جانے کی نسبت سے میاں اس سے پہلے کہ کوئی ملنے کی صورت نکلے اس کی آنکھوں سے چھلک جاؤں میں آنسو بن کر زندگی میں کبھی ...

    مزید پڑھیے

    نکھارتی رہی یلغار سنگ کیا کرتے

    نکھارتی رہی یلغار سنگ کیا کرتے ہم اپنا حلقۂ احباب تنگ کیا کرتے اسے تھا شوق بہت آسمان چھونے کا یہ کٹ گئی تھی ہماری پتنگ کیا کرتے یہ دور دے گیا تمغات چاپلوسوں کو ہم ایسے دشت انا کے ملنگ کیا کرتے مزاج پایا تھا گھل مل کے سب میں رہنے کا جدا تھا سب سے مگر اپنا رنگ کیا کرتے اک عمر بعد ...

    مزید پڑھیے

    دھوپ سے گردش حالات کی گھبرا جائے

    دھوپ سے گردش حالات کی گھبرا جائے دل کوئی پھول نہیں ہے کہ جو مرجھا جائے ہائے رے ضبط محبت کی یہ ثابت قدمی ہم سے کاغذ پہ بھی وہ نام نہ لکھا جائے ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے کس طرح ہوتی ہے تہذیب کی دیوی عریاں شیش محلوں میں کبھی جھانک کے دیکھا ...

    مزید پڑھیے