منفرد رنگ ملے فکر میں جدت نکلے
منفرد رنگ ملے فکر میں جدت نکلے
میں اگر شعر کہوں اتنی تو اجرت نکلے
کھڑکیاں کھول دو اڑ جانے دو خواہش کے پرند
وہ جو سر میں ہے سمائی ہوئی وحشت نکلے
سوچتا کیوں ہے بچھڑ جانے کی نسبت سے میاں
اس سے پہلے کہ کوئی ملنے کی صورت نکلے
اس کی آنکھوں سے چھلک جاؤں میں آنسو بن کر
زندگی میں کبھی اتنی تو سہولت نکلے
کیا کریں ہم ترے اشعار پہ تنقید ندیمؔ
کب کوئی نکتۂ توہین عدالت نکلے