درد کے کھیت میں مسکان اگانے والا
درد کے کھیت میں مسکان اگانے والا
کتنا خوش ظرف ہے زخموں کو چھپانے والا
دل میں اخلاص وفاؤں کی ہے گٹھری سر پر
آدمی ہے یہ کسی اور زمانے والا
یاد آتا رہا تا دیر سفر میں مجھ کو
ہاتھ رہ رہ کے دریچے سے ہلانے والا
آگ کچھ اور گھروں کو بھی جلا ڈالے گی
سوچتا کاش مرے گھر کو جلانے والا
لوگ چہروں کو چھپاتے ہوئے پھرتے ہیں ندیمؔ
شہر میں آیا ہے آئینہ دکھانے والا