نکھارتی رہی یلغار سنگ کیا کرتے
نکھارتی رہی یلغار سنگ کیا کرتے
ہم اپنا حلقۂ احباب تنگ کیا کرتے
اسے تھا شوق بہت آسمان چھونے کا
یہ کٹ گئی تھی ہماری پتنگ کیا کرتے
یہ دور دے گیا تمغات چاپلوسوں کو
ہم ایسے دشت انا کے ملنگ کیا کرتے
مزاج پایا تھا گھل مل کے سب میں رہنے کا
جدا تھا سب سے مگر اپنا رنگ کیا کرتے
اک عمر بعد ہوا وقت مہرباں تو ندیمؔ
نہ آرزو تھی نہ دل میں امنگ کیا کرتے