شعلوں سے لالہ زار ہے آتش کدہ ہے دل
شعلوں سے لالہ زار ہے آتش کدہ ہے دل
زخموں کے شب چراغ کا اک سلسلہ ہے دل
اشکوں کے رنگ و نور سے آنکھیں دھلی دھلی
سوز و فروغ کرب سے صد سوختہ ہے دل
نامہ مرے وجود کا دو لفظ میں اسیر
پہچان میری عشق ہے میرا پتہ ہے دل
سہنا تمام وار مقدر اسی کا ہے
آماجگاہ عشق میں گویا ذرا ہے دل
انجان حادثوں سے منور ہے کائنات
لیکن سبھوں میں سب سے عجب حادثہ ہے دل
آدم کی فرد جرم وراثت بنی شہابؔ
جنت کے میکدے سے اڑایا نشہ ہے دل