خوش تھا کہ اس کے پیار کا اقرار لے لیا
خوش تھا کہ اس کے پیار کا اقرار لے لیا ایسا نہ ہو کہ جان کا آزار لے لیا اس کی دکاں میں کچھ تو الگ بات تھی ضرور ورنہ یہ کیوں کہ خواب خریدار لے لیا کم کم ہی کھولنا تھا معیشت کے بادباں کیوں ناخدا نے بار زیاں کار لے لیا شاید کہ باغباں کی بقا بھی اسی میں تھی شاخوں کے سر سے پھول کی دستار ...