Mansha Yaad

منشایاد

معروف پاکستانی افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس،جدیدیت کے زیر اثر لکھنے والوں میں شامل۔

Prominent story writer and playwright of Pakistan, influenced by modernist mode of writing.

منشایاد کی رباعی

    تماشا

    اندھیرے کا طویل سفر طے کرنے کے بعد وہ سورج طلوع ہونے تک دریا کے کنارے پہنچ جاتے ہیں۔ کنارے پر جگہ جگہ ادھ کھائی اور مری ہوئی مچھلیاں بکھری پڑی ہیں۔ چھوٹا کہتا ہے،’’یہ لدھروں کی کارستانی لگتی ہے ابا۔‘‘ ’’ہاں پتر۔‘‘ بڑا کہتا ہے،’’یہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ مچھلیاں ...

    مزید پڑھیے

    ٹائم از اوور

    کیا کہا کتنے برس؟ برس نہیں دن ہوں گے ! آپ کو غلطی لگی ہے سر!! ابھی ابھی تو میں پنگھوڑے میں لیٹا منہ سے بوتل لگائے بڑے مزے سے دودھ پی رہا تھا۔ اور وہ عورت جس کے بطن سے میں نے جنم لیا ابھی ابھی یہاں تھی۔ آپ میری بات پر یقین کیجئے۔ میں بالکل سچ کہتا ہوں۔ میں نے ابھی چند روز ہوئے زندگی کی ...

    مزید پڑھیے

    پانی میں گھرا ہوا پانی

    چکنی مٹی سے گھوڑے بیل اور بندر بناتے بناتے اس نے ایک روز آدمی بنایا اور اسے سوکھنے کے لئے دھوپ میں رکھ دیا۔۔۔ سخر دوپہر تھی، چلچلاتی دھوپ کے شعلے ویران اور کلر زدہ زمین پر جگہ جگہ رقص کر رہے تھے۔ چاروں طرف ہو کا عالم تھا۔ چرند پرند پناہ گاہوں میں چھپ گئے تھے۔ شرینہہ (سرس) کا ...

    مزید پڑھیے

    ننگا پیڑ

    وہ اپنے زمانے کے مانے ہوئے حکیم تھے ان کا دور دور تک شہرہ تھا اور ان کے مطب کے سامنے ہر وقت مریضوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ انہوں نے نہ صرف دیسی طب کی بہت سی کتابیں پڑھی تھیں بلکہ ان کی نظر طبی میدان میں ہونے والے نئے عالمی تجربات اور تحقیق پر بھی خاصی تھی کیونکہ وہ شہر سے جدید طبی ...

    مزید پڑھیے

    کھلی آنکھیں

    اسے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ مر گیا ہے یا ابھی نہیں مرا۔ تھوڑا بہت مر کر تو اس نے اپنی زندگی میں کئی بار دیکھا تھا کیا پتہ آج وہ بہت زیادہ مر گیا ہو مگر کیوں اور کیسے۔؟ اسے کوئی بات یاد نہیں آ رہی تھی۔ اسے یہ بھی پتہ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اس وقت کس حالت میں اور کہاں اور کس قسم کی ...

    مزید پڑھیے

    وقت سمندر

    قلعہ نما عالی شان عمارت کے اندر داخل ہوتے ہی میرے قدم رک جاتے ہیں۔ میں اس منظر کی تاب نہیں لا سکتا اور آنکھیں بند کر لیتا ہوں مگر پھر آنکھیں کھولتا ہوں تو کچھ دکھائی اور سجھائی نہیں دیتا اور کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون سا وقت اور مقام ہے۔ دن ہے نہ رات۔۔ اندھیرا ہے نہ اجالا۔۔ طلوع ہے ...

    مزید پڑھیے

    پکی سڑک

    یوں تو ان دنوں ہر جگہ سخت گرمی پڑ رہی تھی مگر اپنے آبائی گاؤں پہنچ کر مجھے احساس ہو رہا تھا جیسے ہم ایک لمبی سخر دوپہر کی زد میں آ گئے ہیں۔ دن بھر آگ برستی اور لو کے تھپیڑے گھروں، آنگنوں، گلیوں اور کھیتوں کھلیانوں میں اپنی پیاسی زبانوں سے حسن اور ہریالی چاٹتے۔۔۔ سورج کسی خونخوار ...

    مزید پڑھیے

    دام شنیدن: ڈنگر بولی

    انہیں شک ہے کہ میں نے اپنا عقیدہ بدل لیا ہے حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ میں نے صرف گوشت خوری ترک کی ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو گوشت نہیں کھاتے یعنی ویجی ٹیرین ہیں ان کے پاس گوشت نہ کھانے کی اپنی اپنی وجوہات ہوں گی۔ ہو سکتا ہے بعض لوگ کسی عقیدے کے بنا پر گوشت نہ کھاتے ہوں۔ ...

    مزید پڑھیے

    ہاری ہوئی جیت

    ریلوے اسٹیشن پر ایسی بھیڑ تھی جیسے آج شہر کی ساری خلقت کو سفر درپیش ہو۔ پلیٹ فارم پر بے شمار بوگیوں والی گاڑی آدمیوں عورتوں اور بچوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور انجن لگنے کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کے پاس واپسی کا ٹکٹ موجود تھا وہ متعلقہ بوگی میں سیٹ نمبر تلاش کر کے کھڑکی کے ...

    مزید پڑھیے

    جہاد

    ’’ہیلو کمانڈر۔۔۔ تم پر سلامتی ہو۔‘‘ ’’ حضور آپ پر بھی۔‘‘ ’’ کہاں ہو کمانڈر؟‘‘ ’’ سر ابھی اوپر ہوں۔ مگر میرے آدمی نیچے جا چکے ہیں۔‘‘ ’’انھیں واپس بلا لو۔‘‘ ’’یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟‘‘ ’’ہاں۔۔۔ انھیں واپس بلا لو اور خود بھی آگے مت جاؤ۔‘‘ ’’مگر حضور وہ تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4