دوپہر اور جگنو
اس کی بیوی اسے جگاتی ہے تو وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ ’’کیا ہوا؟۔۔۔۔ خیر تو ہے؟‘‘ ’’چھ بج رہے ہیں اب اٹھ جائیے۔‘‘ ’’اوہ میں سمجھا۔۔۔۔ پھر کوئی بری خبر!‘‘ ’’وہ دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ لیتا ہے۔ پھر کہتا ہے‘‘ ’’روز کہتا ہوں نیک بخت۔۔۔۔ مجھے اس طرح نہ جگایا ...