غروب ہوتی صبح
عجیب دروغ بھری صبح طلوع ہوئی ہے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا وہ جاگ گیا ہے یا ابھی تک سو رہا ہے۔ اگر وہ سو رہا ہے تو سامنے والی خالی کھڑکی اسے کیسے نظر آ رہی ہے اور اگر وہ جاگ رہا ہے تو اسے اپنے خراٹوں کی آواز کیسے سنائی دے رہی ہے۔ ان خراٹوں کے ساتھ ساتھ اسے ان شارکوں کا شور بھی سنائی دے ...