محبت کا قرینا آ گیا ہے

محبت کا قرینا آ گیا ہے
ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے


بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں
دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے


تری شادابیوں کا ذکر سن کر
گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے


بھڑک اٹھتی ہے جس میں آگ دل کی
وہ ساون کا مہینہ آ گیا ہے


مسافر اب کہیں تو جا لگیں گے
تلاطم میں سفینہ آ گیا ہے


سمجھے بیٹھے ہیں خود کو رند کامل
جنہیں دو گھونٹ پینا آ گیا ہے


جنوں اب تک تھا منشاؔ چاک داماں
اب اس کو چاک سینا آ گیا ہے