Manisha Pandey

منیشا پانڈے

منیشا پانڈے کی غزل

    ہم میں تم میں چاہت تھی

    ہم میں تم میں چاہت تھی یہ بھی ایک حقیقت تھی تم کو پانا آساں تھا یہ بھی ایک مصیبت تھی عمریں دینی پڑتی تھیں رشتہ تھا یہ رشوت تھی اک عرصے تک جاگے تھے کچھ تو رات کی غفلت تھی اس بن جینا ممکن تھا اس سے ہم کو قربت تھی سیپ میں موتی کیسا تھا دریا سے کیا نسبت تھی لوگوں سے ڈر یوں بھی ...

    مزید پڑھیے

    ہماری کھڑکی میں آ گیا ہے

    ہماری کھڑکی میں آ گیا ہے یہ چاند کب سے یہیں پڑا ہے جو اپنی کشتی ڈوبو رہا ہے کئی دنوں ناخدا رہا ہے جسے نیا سب بتا رہے ہیں تماشہ پہلے کیا گیا ہے مکاں ڈھا ہے ابھی یہ جا کر کئی برس گھر بسا رہا ہے ہمیں یقیں تھا بہت کسی پر ہمیں اسی پر شبہ ہوا ہے ہرا بھرا تھا کبھی شجر یہ شجر گھروندوں ...

    مزید پڑھیے

    دل چاہت سے خالی ہے

    دل چاہت سے خالی ہے یہ کیسی خوشحالی ہے پہلے کانہا کالے تھے اب رادھا بھی کالی ہے آگ نہیں ہے چولہوں میں کہنے کو دیوالی ہے عشق مرض کی ایک دوا ہم نے آج نکالی ہے جس نے مسلا پھولوں کو باغوں کا اب مالی ہے ہم نے اپنی بھی صورت اس جیسی ہی بنا لی ہے بکنے پر ہیں آمادہ قیمت اور گرا لی ...

    مزید پڑھیے