ہماری کھڑکی میں آ گیا ہے
ہماری کھڑکی میں آ گیا ہے
یہ چاند کب سے یہیں پڑا ہے
جو اپنی کشتی ڈوبو رہا ہے
کئی دنوں ناخدا رہا ہے
جسے نیا سب بتا رہے ہیں
تماشہ پہلے کیا گیا ہے
مکاں ڈھا ہے ابھی یہ جا کر
کئی برس گھر بسا رہا ہے
ہمیں یقیں تھا بہت کسی پر
ہمیں اسی پر شبہ ہوا ہے
ہرا بھرا تھا کبھی شجر یہ
شجر گھروندوں پہ آ گرا ہے
ابھی ہوائیں بھی سر پھری ہیں
ابھی دسمبر نیا نیا ہے
ہمیں بھلانے کی کشمکش میں
وہ اپنے دل سے خفا رہا ہے
بدن جلے ہے کیوں بارشوں میں
یہ بوند میں کیا ملا ہوا ہے
ہمیں سخن کی طلب رہی ہے
ہمیں سخن کا نشہ رہا ہے
وہ جس نے ہم کو زمیں نہیں دی
ہمیں فلک سے گرا رہا ہے